اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سونے کی قیمت پھر چڑھ گئی،ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن)ہفتہ کے روزعالمی صرافہ مارکیٹ میں7ڈالرکے اضافے سے فی اونس سونے کی قیمت 1220ڈالرہوگئی۔آل پاکستان سپریم کونسل جیورلزایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کے روزکراچی،حیدرآباد،لاہور،ملتان،فیصل آباد،اسلام آباد،راولپنڈی اورکوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں ایک تولہ سونے کی قیمت50ہزار200روپے اور دس گرام سونے کی قیمت43ہزار28روپے پربرقراررہی جبکہ ایک تولہ چاندی کی قیمت760روپے پرمستحکم رہا

تاہم جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عالمی صرافہ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں29ڈالرکااضافہ ریکارڈکیاگیااسی مدت میں ملکی صرافہ مارکیٹوں میں ایک تولہ سونا350روپے اور دس گرام سونا300روپے مہنگا ہو ا۔ہفتہ کے روزمقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالرکی قدرمستحکم رہی جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالرکی قدرمیں1پیسے کااضافہ ہوا۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کے روزاوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت خرید107.70روپے اورقیمت فروخت107.90روپے پربرقراررہی جبکہ25پیسے کے اضافے سے یوروکی قیمت خرید115.50روپے سے بڑھ کر115.75روپے اورقیمت فروخت117روپے سے بڑھ کر 117.25روپے پرجاپہنچی تاہم10پیسے کی کمی سے برطانوی پاؤنڈکی قیمت خرید134.50روپے سے گھٹ کر134.40روپے اورقیمت فروخت136روپے سے گھٹ کر135.90روپے ہوگئی ۔فاریکس ایسوسی ایشن کے ہفتہ واررپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اوپن مارکیٹ میںیوروکی قدرمیں1.65روپے اوربرطانوی پاؤنڈکی قدرمیں40پیسے کااضافہ ریکارڈکیاگیا۔#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…