اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

اس بچی کی تصویر نے فیس بک پر لوگوں کے دل پگھلا دئیے،لوگ بھی آبدید ہو گئے

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کینسر جیسا موذی مرض جوان افراد کو بھی جسمانی اذیت کے ساتھ ذہنی طور پر مکمل بیمار اور تبدیل کر دیتا ہے لیکن بچے جو معصوم پھول کی مانند ہوتے ہیں۔یہ مرض انکو لاحق ہونے پر مرجھا کے رکھ دیتا ہے اس کی ایک مثال فیس بک پر مشہورہوئی جس نے لوگوں کے دل پگھلا دئیے اس معصوم بچی کی صحتمند تصاویر کے بعد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو نے کی بعد کی تصویروں نے لوگوں کو

آبدیدہ کردیا۔ میلبورن سے تعلق رکھنے والی یہ سات سالہ بچی پانچ ماہ کے دوران مکمل طور پر بدل چکی ہے اور اس بیماری کے بعد کی اپنے والد کے ساتھ ایک تصاویر فیس بک پوسٹ کی ، بچی کی زندگی اور باتوں نے لوگوں کو جذباتی کردیاہے ۔بچی کے والد کا کہنا تھا کہ بیلے کی بڑی بہن سمیت تمام افراد اسکی گھنی پلکوں کی بہت تعریف کرتے ہوئے اسے حسد کا اظہار کرتے تھے لیکن اب خوبصورت بالوں اور پلکوں والی بیلے کے تمام بال جھڑ چکے ہیں جس کو دیکھ کے بہت دکھ ہوتا ہے۔

 

581b460f11c88 14601032_10154672260218875_7529417654409319113_n

14642169_10154668848538875_1895571783246933063_n

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…