اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

مسلمانوں کی امریکہ داخلے پرپابندی ،چوہدری نثار کے صبرکاپیمانہ لبریز،ٹرمپ کوکھری کھری سنادیں 

datetime 2  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم نامے نے مسلمانوں کی عزت نفس کو مجروح کیا، دہشتگردی کو کسی مذہب سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ ہر داڑھی والے مرد اور حجاب والی عورت کو دہشتگرد نہیں سمجھنا چاہیئے۔ تحریک آزادی اور دہشتگردی میں فرق کرنا چاہیئے، امن و امان کی کنجی بات چیت میں مضمر ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی (این ڈی یو) میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا حالیہ حکم نامہ تعصب پر مبنی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ سکیورٹی کثیر الجہتی مسئلہ ہے اور مخصوص صفات و خصوصیات کی بناء پر کسی ملک یا قوم کے لئے اپنے ملک کی سرحدیں بند کر کے خود کو محفوظ سمجھنا درست اور دا نشمندانہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اس کے محرکات کا غیر جانبدارانہ اور باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیئے نہ کہ ہر داڑھی والے مرد اور حجاب والی عورت کو دہشتگرد سمجھا جائے یا عوام کے لئے دو مختلف قسم کے قوانین بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں سکیورٹی ضروریات اور حالات مغربی ممالک سے مختلف ہیں اس لئے اس مسئلے کو تعصب کی عینک اتار کر حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنا چاہیئے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں دیں لیکن اس کے باوجود نہ صرف خطے میں امن و امان کے قیام کے لئے لچک دار پالیسی پر عمل پیرا ہے بلکہ عالمی دنیا کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے کھڑا ہے مگر بعض قوتیں سکیورٹی کو سیاست سے ملاتی ہے ۔جس سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی اور تحریک آزادی میں فرق کرنا چاہیئے۔ دونوں کو جوڑ کر ظالم اور مظلوم کو ایک ہی طرح ڈیل نہیں کہا جا سکتا بلکہ مناسب حکمت عملی کے تحت مختلف قوتوں اور دھڑوں سے نمٹنا چاہیئے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دنیا کی مقتدر قوتوں کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کو بھی دہشتگردی اور سکیورٹی کو سیاست سے ملانے سے گریز کرنا چاہیئے اور مذاکرات کے عمل کے تحت مسائل کا حل کرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ جو قوتیں مذاکرات کی بجائے پروپیگنڈے اور جنگوں کو مذاکرات پر ترجیح دیتے ہیں عالمی دنیامیں ان کا مقدمہ کمزور ہوتا ہے اور خطے میں امن و امان کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہیں اس لئے مناسب یہی ہے کہ مذاکرات کو تمام مسائل کے حل کے لئے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے کیونکہ مسائل کے حل کی کنجی بات چیت میں مضمر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…