ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

’’جو چاہتے ہیں لے جا ئیں اور جتنا چاہتے ہیں ادا کریں‘‘، مکّہ مکرمہ میں بیکری کے مالک نے یہ بورڈ لگا دیا پھر کیا ہوا؟

datetime 27  جنوری‬‮  2017 |

مکہ مکرمہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے شہرمکہ مکرمہ میں ایک دکاندارنے گاہکوں کی ایمانداری کوچانچنے کےلئے اپنی دکان پرایک بورڈلگادیاہے جس پرلکھاہے کہ ’’جوچاہتے ہیں لے جائیں اورجتناچاہتے ہیں اداکریں ‘‘۔اس دکاندارنے اپنے کیشئرکی بھی چھٹی کردی ہے ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق مکہ مکرمہ کی ایک معروف بیکری کے مالک نے سی سی ٹی وی کیمروں ،اکائونٹس کی جانچ پڑتال اوراپنے کیشئرکے روزروزکے نخروں سے چھٹکاراپانے کےلئے سیلف سروس کایہ نیاطریقہ اپنایاجس پرگاہکوں نے جب یہ بورڈ دیکھاتوانہوں نے بھی کمال ہی کردیاکہ ان کےلئے بھی مختلف قسم کے جھنجھٹ ختم ہو گئے ہیں ۔بیکری کے مالک کے اس اقدام پرانہوں نے عمل کردکھایا۔جبکہ دوسری طرف جب مالک نے اپنی آمدن کااندازہ لگایاتواس کوپہلے کی نسبت زیادہ آمدن ہوئی ۔بیکری کے مالک نے اپنے اس اقدام کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ اس کایہ نیااقدام بہت ہی زیادہ فائدہ مندثابت ہواہے ایک طرف اس نے لوگوں کی ایمانداری کوبھی چیک کرلیاہے اورساتھ ہی ایسے لوگ جوپیسے ادانہیں کرسکتے وہ سامان لے جاتے ہیں اوربعدمیں پیسے بھی خودہی اداکرجاتے ہیں ۔اس نے بتایاکہ یہ تجربہ دیڑھ سال قبل کیاتھاجوکہ اب بھی بہت ہی کامیاب جارہاہے اوربیکری پرمعیاری اشیاہیں جبکہ ان کی قیمتیں بھی معقول ہیں۔انہوں نے مزید بتایاکہ عوام پراعتمادکیاجائے توحکومت کوسکیورٹی کے اقدامات پرکم خرچ کرناپڑے گاجبکہ ایسے اقدامات کرنے سے غریب افراد کوبھی اپنی روزمرہ کی ضروریات عزت کے ساتھ پوری کرسکیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…