ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں دہشت گردی میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد سمیت40 ممالک کے شہری ملوث ، وزارت داخلہ کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 21  جنوری‬‮  2017 |

ریاض(آئی این پی)سعودی وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت میں حالیہ چند برسوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں 40 ممالک کے شہری ملوث ہیں۔سعودی گیزٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے تواصل پورٹل (شعبہ مواصلات) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی پانچ انٹیلی جنس جیلوں میں 5085 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔

زیرحراست مشتبہ افراد میں 68 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے ان پر کس نوعیت کے مقدمات ہیں یا انھیں کس جرم کے شبہے میں زیرحراست رکھا گیا اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تین امریکی شہری اور فرانس، بیلجیئم اور کینیڈا سے ایک ایک شہری بھی زیرحراست ہیں۔ان میں سے کچھ مشتبہ افراد خصوصی جرائم کی عدالت کی جانب سے اپیلیں مسترد ہونے کے بعد قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ کچھ کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔اس کے علاوہ دیگر افراد سے بیورو آف انویسٹی گیشن اور پبلک پراسیکیوشن تفتیش کر رہی ہے۔بیان کے مطابق انٹیلی جنس جیلوں میں سب سے زیادہ سعودی شہری زیرحراست ہیں جن کی تعداد 4254 ہے۔اس کے بعد 282 یمنی شہری اور 218 شامی شہری گرفتار ہیں۔عرب ممالک میں 57 مصری، 29 سوڈانی، 21 فلسطینی، سات صومالی، پانچ عراقی، تین لبنانی، دو مراکشی، 19 اردنی، دو موریطانوی، دو اماراتی، دس بحرینی، دو قطری اور لیبیا اور الجزائر سے ایک ایک شہری زیر حراست ہیں۔زیر حراست مشتبہ افراد میں ایک چینی، تین فلپینو، 19 انڈین، 68 پاکستانی، چھ ایرانی، سات افغان، چار ترک،

چار بنگلہ دیشی اور ایک کرغستانی باشندہ شامل ہے۔افریقی ممالک میں چاڈ سے 17، ایتھوپیا سے تین، نایجیریا سے چار، مالی سے دو اور انگولا، برکینا فاسو اور جنوبی افریقہ سے ایک ایک شہری شامل ہیں۔خیال رہے تواصل کے ذریعے یہ افراد اپنی خاندان اور رشتے داروں سے آڈیو وڑول رابطہ کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…