پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

بچی غائب ہوگئی اور پھر۔۔!حاضر سروس جج کی اہلیہ کاکم سن ملازمہ پر مبینہ تشدد کے معاملے پر پولیس کو تحریری بیان منظرعام پر آگیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج راجا خرم علی خان کی اہلیہ نے کم سن ملازمہ پر مبینہ تشدد کے معاملے سے متعلق پولیس کو اپنا تحریری بیان ریکارڈ کرادیا۔تفصیلات کے مطابق حاضر سروس جج راجا خرم علی خان کی اہلیہ ماہین ظفر نے پولیس اسٹیشن جاکر تحریری بیان دیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ طیبہ کو دو سال پہلے ایک خاتون لیکر آئی تھی،ہم نے طیبہ کو اپنے بچوں کی طرح رکھا،ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں جن کے ساتھ کھیلنے کو طیبہ کو رکھا۔جج کی بیوی کا کہنا ہے ک 27 دسمبر کو طیبہ پڑوس میں گئی اور غائب ہوگئی،جس وقت بچی غائب ہوئی میرے شوہر گاؤں گئے ہوئے تھے، بچی پڑوس میں گئی تھی،پڑوسیوں سے پوچھا تو انہوں نے انکار کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پڑوس میں رہنے والوں نے بچی کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالی،بچی کیسے زخمی ہوئی نہیں معلوم،مجھ پر عائد کردہ تمام الزامات جھوٹے ہیں ،میں نے طیبہ کو نہ جلایا اور نہ ہی اس کو مارا۔اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج راجا خرم علی خان کے گھر میں کام کرنے والی کم سن ملازمہ پر مبینہ تشدد کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔سپریم کورٹ کی جانب سے یہ نوٹس میڈیا پر نشر ہونے والی رپورٹس پر لیا گیا جن میں کم سن ملازمہ پر ہونے والے مبینہ جسمانی تشدد کو دیکھا جاسکتا تھا مگر بعد ازاں بچی کے والدین نے معاملے پر راضی نامہ کرکے اسے رفع دفع کردیا تھا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کے گھر میں مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن ملازمہ کے والد نے جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…