کراچی(آن لائن)ایک ہفتے کے دوران عالمی بلین مارکیٹ میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران سونے کے نرخ میں 24 ڈالر کی کمی دیکھی گئی اور فی اونس سونے کی قیمت 1160 ڈالر سے گھٹ کر 1136 ڈالر ہوگئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق 7 روز کے دوران ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 300 روپے کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد کراچی ، حیدر آباد ، لاہور ، ملتان ، فیصل آباد ، راولپنڈی ، اسلام آباد اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت 49 ہزار 800روپے سے کم ہو کر49ہزار500روپے ہوگئی ، اسی طرح 257روپے کی کمی سے 10گرام سونے کی قیمت 42 ہزار 685 روپے سے گھٹ کر 42 ہزار 428 روپے ریکارڈ کی گئی ، گزشتہ ہفتے مقامی مارکیٹ میں چاندی کی فی تولہ قیمت 750 روپے پر برقرار رہی۔
جبکہ آل سندھ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون چاند کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونا 3 ڈالر سستاہوکر 1131 ڈالر فی اونس پر آگیا ۔ اس کمی کا اثر مقامی صرافہ بازار میں بھی ہوا۔مقامی صرافہ بازار میں فی تولہ سونا 500 روپے سستاہوکر 49 ہزار 800 روپے اورر دس گرام سونا 429 روپے کمی کے بعد 42ہزار 685 روپے کا ہوگیا ہے ۔
سونا سستا ہو گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
موسم گرما کی سرکاری تعطیلات،حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت



















































