جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

قومی ٹیم میں جگہ پانے والے سکھ کھلاڑی مہندر پال بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(آن لائن) قومی کرکٹ ٹیم کے 30رکنی فہرست میں جگہ پانے والے سکھ کھلاڑی مہندر پال سنگھ نے کہا ہے کہ ٹریننگ میں مدثر نذر، مشتاق احمد نہ صرف ان کے کھیل کی تعریف کی بلکہ چیئرمین کرکٹ بورڈ شہریار خان نے ملتان کی کرکٹ اکیڈیمی میں ان سے ملاقات میں تعریف کی اور بلکہ خوش ہو کر کہہ کر ‘شکر ہے کہ پاکستان کی کرکٹ میں کوئی سکھ لڑکا سامنے آیا ہے۔’انھوں نے کہا کہ فاسٹ بولنگ میں سپیڈ تو ایک سو تیس کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے لیکن ان کے پاس گیند کو ان اور آوٹ سوئنگ کرنے کی قدرتی صلاحیت ہے جو فاسٹ بولنگ میں سپیڈ سے زیادہ اہم ہے۔مہندر پال سنگھ پنجاب یونیورسٹی میں بی فارمیسی کے طالب ہیں اور کرکٹ کھیلنے کی خواہش اپنے والد ڈاکٹر ہرجیت سنگھ کو دیکھ پیدا ہوئی جو خود بھی فاسٹ بولر تھے لیکن فاسٹ بولر وقار یونس سے خاصے متاثر ہوئے اور انھیں اپنا آئیڈل بناتے ہوئے فاسٹ بولنگ میں محنت کی۔مہندر پال سنگھ نے بتایا کہ اب تربیت مکمل ہو چکی ہے اور اب گریڈ ٹو کرکٹ کھیلیں گے اس کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ اور وہاں سے قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونا ان کا خواب ہے۔کرکٹ اکیڈیمی میں ایک سکھ لڑکے کو دیکھ کر باقی کرکٹرز کے رویے کے بارے میں بتاتے ہوئے مہندر پال سنگھ نے بتایا کہ پنجاب یونیوسٹی میں بھی وہ فارمیسی کے شعبے میں واحد سکھ سٹوڈنٹ ہیں اور جیسے وہاں باقی طلب علم انھیں دیکھ کر حیران بھی ہوتے ہیں اور ساتھ خوش بھی ہوتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سکھ بھی ہے اور ایسا ہی ردعمل کرکٹ اکیڈیمی میں تھا۔20 سالہ مہندر پال سنگھ کے مطابق ان کا تعلق تو مردان سے ہے لیکن ان کا خاندان امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے 15 برس پہلے ننکانہ صاحب منتقل ہو گیا تھا۔مہندر پال سنگھ کے مطابق وہ پرامید ہیں کہ جس طرح سے ٹریننگ اکیڈیمی میں ان کی تعریف کی گئی وہ اس پر پورا اتریں گے اور اپنے کھیل میں مزید نکھار پیدا کریں گے تاکہ سلیکٹرز کی نظروں میں آ سکیں۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…