جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں چار پاکستانی اور تین بھارتی گرفتار ، شرمناک وجہ سامنے آگئی

datetime 17  دسمبر‬‮  2016 |

ڈھاکا(آئی این پی) بنگلہ دیش پریمیئر لیگ پر جوئے کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، پولیس کی جانب سے50 افراد کو حراست میں لیا گیا، چار پاکستانی اور تین بھارتی بھی شامل تھے، ایک انڈین کو ڈی پورٹ کردیا گیا، معروف برطانوی بیٹنگ سائٹ سمیت 12 ویب سائٹس کو بلاک کردیا گیا۔دوسری جانب فرنچائز مالکان نقصان کا رونا رونے لگے، اکثریت نے ایونٹ میں سرمایہ کاری کی وجہ کھیل سے محبت کو قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور اس سے قبل انگلینڈ سے ہوم سیریز میں کانٹر ٹیررازم اینڈ کرائم یونٹ نے 50 جواریوں کو حراست میں لیا، ان میں تین بھارتی اور چار پاکستانی باشندوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد نجم الاسلام نے کہاکہ ہم نے 50 کے قریب جواریوں کو گرفتار کیا تاہم بعدمیں سوائے ایک بھارتی باشندے سب کو ضمانت پر رہا کردیا گیا، مذکورہ بھارتی باشندے کو ڈی پورٹ کرنے کیلیے ہائی کمیشن کے سپرد کردیا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملکی کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں شامل 12 ایسی ویب سائٹس کو بلاک کردیا گیا جو غیرقانونی جوئے کا سبب بن رہی تھیں۔ان میں انگلینڈ کی ایک معروف بیٹنگ سائٹ بھی شامل ہے جس کی ملکیت انگلش پریمیئر لیگ فٹبال کلب اسٹاک سٹی کی مالک فیملی کے پاس ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ، کبڈی ورلڈ کپ اور ایسے انٹرنیشنل اسپورٹس جو بنگلہ دیش میں ٹی وی پر براہ راست دکھائے جاتے ہیں ان کے دوران اس ویب سائٹ کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔دوسری جانب بی پی ایل کی تمام 7 فرنچائزز نے دعوی کیاکہ انھیں لیگ سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا،چٹاگانگ کنگز کے مالک عبدالواحد نے کہاکہ کاروبار کے نقطہ نظر سے یہ منافع بخش نہیں، ہم تو کھیل کی محبت میں یہاں پر موجود ہیں۔
چیمپئن ڈھاکا ڈائنامائٹس کے چیف ایگزیکٹیو عبد نظام نے کہاکہ ایونٹ سے فوری منافع حاصل نہیں ہونا ہمیں صبر کا دامن تھامنا ہوگا، ہماری اس ایونٹ میں دلچسپی اس لیے بھی رہی کہ یہ ہمارے سی ایس آر (کارپوریٹ سماجی ذمہ داری) کے لیے اچھا ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ملکی بزنس اتھارٹیز ان کی اس انویسٹمنٹ کو سی ایس آر کے طور پر قبول کریں گی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…