ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

تباہ ہونیوالے طیارے میں کس کمپنی کے انجن نصب تھے؟قابل بھروسہ تھے یا نہیں؟تفصیلات جاری

datetime 11  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)پی آئی اے ترجمان نے ان میڈیا اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ATR۔42 & 72 طیاروں میں دنیا کی معروف طیارہ انجن ساز کمپنیPratt & Whitneyکے انجن استعمال کئے جاتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں قابل بھروسہ مانے جاتے ہیں۔اس وقت مختلف نوعیت کے 12 سو سے زائدATR طیارے بنائے جا چکے ہیں اور دنیا کی مختلف ائر لائن ان کو اپنی پروازوں کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔
یہ کمپنی1925 سے اب تک دنیا کی مشہورکمرشل طیارہ ساز کمپنیوں جن میں بوئنگ اور ائر بس شامل ہیں کو تیرہ ہزار سے زائد انجن فراہم کر چکی ہے۔ اسکے علاوہ یہ کمپنی ملٹری طیاروں کوبھی سات ہزار سے زائد انجن فروخت کر چکی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ حادثہ کا شکار ہونے والے طیارے کے انجن میں پہلے سے کسی قسم کی خرابی تھی اور کہا ہے کہ اس مرحلے پر یہ تاثر دینا کہ ایک انجن کا پنکھا اْلٹا چل رہا تھا جو حادثے کا باعث بنا قبل از وقت ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ اس قسم کی قیاس آرائیوں سے عوام غلط نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

درحقیقت چترال سے ٹیک آف کے وقت طیارے کے دونوں انجن بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے لیکن دوران پرواز کوئی مسئلہ ہواجو حادثے کا باعث بنا۔اس حادثے کی مکمل تحقیقات ایک خود مختار ادارہ سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کر رہا ہے جو ایوی ایشن ڈویڑن کے ماتحت ہے۔جائے حادثہ سے ملنے والی تمام اشیاء بشمول کاک پٹ آلات تحقیقات میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں لیکن صرف چندکی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرلینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کو وزیر اعظم کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ تحقیقات کا عمل شفاف ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو اور سچ جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے۔ترجمان پی آئی اے نے میڈیا سے درخواست کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اس کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…