ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

قطبین میں بھارت کے رقبے سے بھی زیادہ۔۔۔! جرمن سائنسدانوں کے لرزہ خیز انکشافات

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن )قطب شمالی اور جنوبی پر تحقیق کرنے والے مختلف بین الاقوامی اداروں نے کہا ہے کہ اس سال نومبر میں قطبین پر برف کی کم ترین مقدار ریکارڈ کی گئی ہے جو عالمی ماحول کے نقطہ نگاہ سے انتہائی تشویش ناک ہے۔قطبین (یعنی آرکٹک اور انٹارکٹیکا) پر قائم امریکا، جرمنی، ہالینڈ، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کے علاوہ بین الاقوامی موسمیاتی اسٹیشنوں نے مشترکہ طور پر یہ انکشاف کیا ہے کہ اس سال نومبر کے مہینے میں قطبین پر 37 لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر جتنی برف کم ہوئی ہے جو بھارت کے رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں لیکن ان کے لیے حیران کن ہر گز نہیں کیونکہ اس سال قطب شمالی (آرکٹک) پر پہلے ہی نومبر میں معمول سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جرمن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سال نومبر میں قطب شمالی پر برف کا مجموعی رقبہ 90 لاکھ 80 ہزار مربع کلومیٹر ریکارڈ کیا ہے جو اب تک نومبر میں آرکٹک پر برف کا سب سے کم رقبہ بھی ہے۔اس سے پہلے نومبر کے مہینے میں قطبین پر کم ترین برف کا عالمی ریکارڈ 2006 میں قائم ہوا تھا لیکن اس سال برف کی کمی نے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔یاد رہے کہ قطبین پر مسلسل پگھلتی ہوئی برف عالمی ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 100 سال کے دوران سمندر کی سطح میں 20 سینٹی میٹر (8 انچ) تک کا اضافہ ہوچکا ہے جس کی وجہ زمین پر مسلسل بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیاں اور نتیجتاً مسلسل بڑھتی ہوئی ا?لودگی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر قطبین کی ساری برف پگھل گئی تو دنیا بھر میں سمندروں کی سطح ا?ج کے مقابلے میں 216 فٹ (66 میٹر) تک بلند ہوجائے گی اور سارے کے سارے ساحلی شہر ڈوب جائیں گے۔ماہرین کے مطا بق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور قطبین پر تیزی سے کم ہوتی ہوئی برف کے نئے سے نئے ریکارڈ اسی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر زمینی ماحول درست کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خطرناک موقع شاید ہماری توقعات سے بہت پہلے ہی آجائے گا۔ واضح رہے کہ ماہرین شمندروں کناروں پر واقع شہروں کے صفا ہستی سے مٹنے کا انکشاف کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…