پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

طیارے میں سوار ہونے سے پہلے ایک دوست نے جنید جمشید سے کیا کہا تھا؟ ‎

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے مشہور و معروف نعت خواں اور مذہبی سکالر جنید جمشید کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا ہے کہ کہ جب وہ چترال سے اسلام آباد کیلئے جہاز پر سوار ہونے کیلئے جارہے رہے تھے تو میں نے انہیں منع کیا کہ مجھے یہ جہاز بالکل بھی ٹھیک نہیں لگتا آپ نہ جائیں ۔تفصیلا ت کے مطابق جنید جمشید کے ایک دوست کا کہنا تھا کہ جب جنید جمشید چترال سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہونے لگے تو میں نے انہیں منع کیا ہے کہ مجھے یہ جہاز ٹھیک نہیں لگ رہا ، اس جہاز کے انجن کی آواز بھی ٹھیک نہیں ہے اور شور بھی بہت زیادہ ہے ۔
اس طیارے سے نہ جائیںبلکہ کسی دوسرے طیارے سے چلیں جائیں گے ۔ جس پر جنید جمشید نے مجھے یہ کہہ کر صاف منع کر دیا کہ نہیں مجھے لازمی جا نا ہے کیونکہ میرا جانا بہت ضروری ہے ’’ اللہ مالک ہے‘‘ ۔ اسی جہاز سے جائیں گے کچھ نہیں ہوتا ۔ ان کے دوست سہیل خان نے کہا ہے کہ میں پچھلے 17سال سے جنید جمشید کے ساتھ تھا،میں نے جنید جمشید نے چترال کا اکٹھا سفر بھی کیا ، اس دوران میں نے ایک بات نوٹ کی تھی کہ چترال جانے کے بعد جنید جمشید خاموش رہنا شروع ہو گئے تھے اور موت کا ذکر کثرت سے کرتے تھے ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کر تے ہوئے سہیل خان نے بتایا کہ شہید ہونے سے ایک دن قبل چترال میں جنید جمشید نے اپنے ایک دوست سے وعدہ لیااور کہا کہ ’’مجھ سے وعدہ کرو‘‘ جس پر دوست نے پوچھا کہ کونسا وعدہ؟ جنید جمشید نے کہا کہ پہلے تم وعدہ کرو ، دوست نے وعدہ کر لیا تو جنید جمشید نے کہا کہ تم میرے جنازے میں ضرور شریک ہو گے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنید جمشید نے موت کے اوپر چترال میں خطاب بھی کیا تھا ، وہ ایسی باتیں کرتے رہتے کہ جس سے صاف لگتا تھا کہ انہیں یقین ہو گیا کہ ضرور کچھ ہونے والا ہے ۔ ہیل خان نے بتایا کہ چترال سے واپس ہم نے اکٹھے ہی آنا تھا لیکن کسی ضروری کام سے مجھے پہلے آنا پڑا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…