جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرانسپورٹ کے نظام پرغیرضروری تنقید

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ کچھ افراد عوامی سہولتوں کے منصوبوں پرتنقید کرکے اپناقدبڑاکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔موجودہ صورتحال کوہی مدنظررکھاجائے ۔مثال کے طورپرہمیں یہ کہاجائے کہ انگریزی لفظ pپرتین بڑی باتیں بنائیں توہم پاکستان ،پالیٹکس اورپراگریس لکھیں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لیکن کے بارے میں کچھ اورکہاجائے تویہ ہمارے لئے مشکل ہوگا۔ہمیں سیاست سے بالاترہوکرپاکستان کودیکھناچاہیے ،ہمیں سیاست کوترقی سے دوررکھناچاہیے ۔پاکستان میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اگرہم اس کوسیاسی رنگ دیناچھوڑدیں ۔

ہرمعاملے کوسیاسی رنگ دینے سے کئی منصوبوں کی ترقی کے ثمرات ضائع ہوجاتے ہیں اورپاکستان میں ایسی ہی تنقید بعض اوقات کئی مسائل پیداہورہے ہیں جب بھی وفاقی حکومت عوام کی فلاح کےلئے کوئی منصوبہ شروع کرنے کی تیاری کرتی ہے تودوسر ی جماعتوں کی طرف سے اس منصوبے کوشروع کرنے سے پہلے ہی تنقید شروع ہوجاتی ہے اوراپنے موقف درست ثابت کرنے کےلئے یہ جماعتیں ہزاروں دلائل ڈھونڈلیتی ہیں ۔
ٹرانسپورٹ کاپنجاب اورسندھ میں ایک بڑامسئلہ ہے مجھے یادہے کہ جب کبھی ہم والوبسوں ،ویگینوں میں پنجاب اورسندھ میں سفرکریں توسفراتنامشکل ہوتاہے کہ ہم سفرکرنے سے ہی اکتاجاتے ہیں لیکن دوسری طرف جب سیاسی جماعتوں کودیکھتے ہیں تووہ حکومت کے سفری سہولیات کے لئے شروع کئے گئے منصوبوں کونتقید کانشانہ بنارہے ہوتے ہیں ۔اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس سفری سہولتیں ہیں جبکہ عام لوگوں کے پاس ایسی سہولتیں میسرنہیں ہیں ۔

گزشتہ روزمیرے ایک کزن نے مجھے کہاکہ ہمیںبہت افسوس ہورہاہے کہ حکومت ناظم آبادفلائی اوورکوگرارہی ہے جس سے گرین بیلٹ کونقصان ہوگایہ میراوہی کزن ہے جوکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کوہمیشہ تنقید کانشانہ بناتانظرآتاہے اوروہ کراچی میں فلائی اوورزنہ ہونے کی وجہ سے عوام کی مشکلات کاذکرکررہاہوتاہے ۔

اس لئے میں نے اندازہ لگایاکہ حکومت کوکچھ وقت دیناچاہیے کہ وہ عوام کوسہولتیں فراہم کرنے کےلئےبہترطورپرکام کرسکے جبکہ اس حکومت کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ عوامی فلاح کے منصوبوں پرکسی سے منظوری لے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…