ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

انتہائی ناقص صورتحال ۔۔ تمام فوڈ فیکٹریوں پر بڑی پابندی عائد

datetime 8  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے کہا ہے کہ پنجاب میں فوڈ پراڈکٹس تیار کرنے والی فیکٹریوں کو محکمہ فوڈ سے رجسٹریشن کرانا ہو گی،غیر رجسٹرڈ اور دکانوں کے نام پر سرٹیفکیٹس لے کر فیکٹریاں چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔انہوں نے لاہور کے علاقے شاہدہ میں کالاخطائی روڈ پر غیر معیاری اور مضر صحت آئس کریم،دیسی گھی اور مکھن بنانے والی دو فیکٹریوں پر چھاپہ مارتے ہوئے 25 ہزار کلوگرام سامان قبضہ میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری میں چائلڈ لیبر،خراب جسمانی حالت،کیڑے مکوڑوں کی موجودگی اور انتہائی خراب ماحول میں آئس کریم اور مکھن تیار کیا جارہا تھا۔دونوں فیکٹریوں سے اڑھائی کروڑ روپے مالیت کے سامان کو سیل کرکے فیکٹریوں کو سر بمہر کر دیا گیا جبکہ مالکان اور عملہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر 16 لوگوں کو گرفتار کروایا گیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخوراک بلال یاسین نے کہا کہ ان فیکٹریوں میں بناسپتی گھی میں ناقص کلر اور فوڈ آئٹمز ملا کر اسے دیسی گھی میں تبدیلی کیا جارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان فیکٹریوں سے شہر کے شادی ہالوں کو غیر معیاری آئس کریم اورڈیری شاپس کو جعلی دیسی گھی سپلائی کیا جاتا ہے۔بلال یاسین نے فیکٹری میں پروڈکشن ایریا میں گندگی،حشرات کی موجودگی اور انتہائی ناقص صفائی کے انتظامات پر فیکٹری انتظامیہ کی سرزنش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ افراد لوگوں کی صحت اور زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ایسے عناصر کے خلاف ہر صورت قانونی کارروائی ہو گی۔فیکٹری میں کام کرنے والا عملہ بغیر کسی تربیت،فوڈ سیفٹی تدابیر اور خراب جسمانی حالت میں کام کررہا تھا۔بلال یاسین نے موقع پر موجود محکمہ فوڈ کے عملہ کو سیمپلز جمع کرکے فیکٹری کو سیل اور مال کو ضبط کرکے ضائع کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ غیررجسٹرڈ فیکٹریاں فوڈ پراڈکٹس تیار نہیں کر سکتی اور ایسے لوگ فوڈ سیفٹی سٹینڈرڈز کا خیال نہیں رکھتے ان کو عوام کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کے گرد شکنجہ سخت کیا جارہا ہے۔بلال یاسین نے موقع پر متعلقہ ایس ایچ او کو بلا کر افراد کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…