جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر امام بارگاہ پر خودکش حملہ،خواتین اور بچوں سمیت 32افراد جاں بحق ، 45زخمی ،افغانستان نے انتباہ کردیا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کابل (آئی این پی) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر امام بارگاہ پر خودکش حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 32افراد جاں بحق اور 45زخمی ہوگئے ،دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا،بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ،

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے دھماکے کی شدید مذمت اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور انھیں پناہ دینے والوں کو اسکی بھاری قیمت چکا نا پڑے گی،ہماری سیکورٹی فورسز واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی ۔پیر کو افغان میڈیا کے مطابق دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں واقعہ باقر علوم مسجد میں حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر شیعہ زائرین کا اجتماع جاری تھا کہ ایک خودکش حملہ آور نے اندر گھس کر خودکو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 32افراد جاں بحق اور45سے زائد زخمی ہوگئے ۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق الصدیقی نے بتایا کہ کابل کے مغربی علاقے میں واقع امام بارگاہ باقر العلوم میں دوپہر ساڑھے 12 بجے کے قریب دھماکا ہوا۔دھماکے کے فوری بعد امدادی کاروائیاں شروع کردی گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے

جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے کے وقت مسجد میں بڑی تعداد میں زائرین جمع تھے ۔مرنے والوں اور زخمیو ں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ میں اندر موجود تھا اور لوگ وہاں عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک میں نے ایک زوردار آواز سنی، جس کے نتیجے میں کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے، بس میں نے باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔شیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب دنیا بھر میں شیعہ پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسینؓ ؓکا چہلم منا رہے ہیں۔ اس دن مسلم دنیا کے اکثر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں غم گسار، ساتویں صدی میں امام حسینؓ اور ان کے اقربا کی شہادت کے 40 دن پورے ہونے پر عزاداری کرتے ہیں۔

دوسری جانب افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے دھماکے کی شدید مذمت اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور انھیں پناہ دینے والوں کو اسکی بھاری قیمت چکا نا پڑے گی ۔ہماری سیکورٹی فورسز واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی ۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی شیعہ مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس اور مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے ۔کابل میں اس سے پہلے بھی شیعہ آبادی کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔گذشتہ ماہ کابل میں ایک مزار پر مسلح حملے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔طالبان نے دھماکے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ۔اس سے قبل بھی شیعہ زائرین پر حملوں کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے ۔واضح رہے کہ افغانستان میں 1996 سے 2001 کے دوران افغان طالبان نے افغانستان میں اپنی حکومت امارت اسلامیہ قائم کی تھی اور وہ ایک مرتبہ پھر ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جنگ میں مصروف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…