جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

عمران خان اور طاہر القادری کو پس پردہ کون کنٹرول کررہاہے؟بڑا دعویٰ کردیاگیا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ 2نومبر کو تحر یک انصاف کا سمندر تو دور کی بات ’’گندہ نالا ‘‘بھی نہیں آیا ‘اپوزیشن وزیر اعظم کی ’’نمازیاں ‘‘ماننے کیلئے تیار نہیں وہ پانامہ لیکس پر وزیر اعظم کا کمیشن تسلیم کرتے ؟اصل میں اپوزیشن ملک سے کر پشن کا خاتمہ یا احتساب نہیں وزیر اعظم کو ہٹانا اور (ن) لیگ کے اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں ‘عمران خان اور طاہر القادری کو کسی نہ کسی ’’سیکرٹر یٹ ‘‘سے کوئی نہ کوئی ہدایت ضرور ملتی ہے جسکے بعد وہ سڑکوں پر آتے ہیں وہ اصل میں سی پیک منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ‘جو عمران خان صاد ق خان کے مقابلے میں اپنی یہودی سالے کو سپورٹ کر سکتے ہیں اس سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے ۔

اتوار کے روز اپنے ایک ٹی وی انٹر ویو میں مشاہد اللہ خان نے کہا کہ تحر یک انصاف سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتیں پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سے ملک میں اسکی تحقیقات نہیں بلکہ انتشار ہی چاہتی رہی ہے اور وزیر اعظم نوازشر یف مکمل طور پرآزاد تحقیقات کیلئے تیار ہوئے مگر اپوزیشن وزیر اعظم کی ’’نمازیاں ‘‘ماننے کیلئے تیار نہیں وہ پانامہ لیکس پر وزیر اعظم کا کمیشن تسلیم کرتے ؟۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کام کر نیوالی تحر یک انصاف اور طاہر القادری جیسے لوگ ملک میں انتشار اور فساد پیدا کر نا چاہتے ہیں اور میں نے 2014میں بھی کہا اب بھی کہتاہوں عمران خان اور طاہر القادری کو کسی نہ کسی ’’سیکرٹر یٹ ‘‘سے کوئی نہ کوئی ہدایت ملتی ہے جسکے بعد وہ سڑکوں پر آتے ہیں وہ اصل میں سی پیک منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی مک مکاؤ ہوتا ہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مک مکاؤ کیا ہے تحر یک انصاف ملک میں ماحول کو گر م رکھنا چاہتی ہے پہلے دھاندلی کاشور مچاتے رہے اب کر پشن کی بات کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عشرت العباد کوشاید اسی وجہ سے گور نر رہے کہ یہاں اردو بولنے والوں کوانکا حق دیا جائے مگر اب اردو بولنے والوں کی جماعتوں نے بھی انکو مستر دکر دیا ہے اس لیے انکو گور نر کے عہدے پر رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا ۔ ایک سوال کے جواب میں عشر ت العباد 14سال گور نر رہے انکو دہشت گردوں کی آخری نشانہ کیسے کہاں جاسکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…