پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

’’سی پیک منصوبہ ‘‘ اب آپ بھی یہ کام کر سکتے ہیں ۔۔چین نے پاکستانیوں کیلئے شانداراعلان کر دیا

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)چائینز پورٹ ہولڈنگ کمپنی( سی او پی ایچ سی) کے منیجر وکٹر جیا نے پاکستانی تاجروں کو چین پاکستان اقتصادی راہدری( سی پیک) میں سرمایہ کاری اور مشترکہ شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان سمیت خطے میں ترقی و خوشحالی کا باعث ہو گا جس کی تکمیل سے نہ صرف روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صنعتی وتجارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔یہ بات انہوں نے انڈینٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان( آئی اے او پی) کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں کی سربراہی میں ممتاز تاجروصنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ وفد نے چائینز پورٹ ہولڈنگ کمپنی( سی او پی ایچ سی) کی دعوت پر گوادر بندرگاہ کا دورہ کیا اور دیگر کمپنی حکام مس وینڈی وانگ، گوادر فری زون کے داداللہ سے ملاقات کی ۔ وفد نے گوادر بندرگاہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرزاق درانی سے بھی ملاقات کی اور گوادر بندرگاہ پر دستیاب تجارتی سہولتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ثاقب فیاض مگوں نے پاکستانی تاجربرادری کے لیے سرمایہ کاری اور مشترکہ شراکت داری کے لحاظ سے سی پیک منصوبہ انتہائی پرکشش ثابت ہو گا۔ پاکستانی تاجروں کو سی پیک کے اس بڑے منصوبے کا ضرور حصہ بننا چاہیے تاکہ ملکی اقتصادی ترقی میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ سی پیک میں کئی ممالک کی بطور اسٹیک ہولڈر شرکت سے منصوبے کی کامیابی میں کوئی شک باقی نہیں رہا یہ منصوبہ علاقائی بلاک میں’’ گیم چینجر‘‘ کی حیثیت اختیار کرگیاہے۔گوادر دنیا بھرکے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہر روز گوادر کا دورہ کررہے ہیں جس سے ریئل اسٹیٹ کا روبار بھی عروج پر پہنچ گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ سی او پی ایچ سی 22ہزار600ایکٹر پر مشتمل فری زون قائم کررہی ہے جہاں تمام شعبوں کی برآمدی صنعتوں کو تمام ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے ساتھ23 سال کے عرصے کے لیے ٹیکس فری سہولت دی جائے گی۔چین کی بے شمار کمپنیوں نے فری زون میں پہلے ہی رجسٹریشن حاصل کرلی ہے۔ابتدائی مرحلے میں 80ایکڑ پر مشتمل گوادر ماڈل زون2018 میں مکمل ہو گا جہاں عالمی معیار کا نمائش سینٹر،فائیو اسٹارز ہوٹل، کارپوریٹ آفسز اور رہائشی اپارٹمنٹس بھی تعمیر کیے جارہے ہیں۔گوادر میں 300میگا واٹ کا بجلی کی پیداوار کا پلانٹ قائم کیا جائے گا ۔پہلے فیز میں 100میگا واٹ کا منصوبہ شروع کیاجائے گا اور یہ خودمختار پاور پلانٹ وزارت پانی وبجلی کی منظوری کے بعد برق رفتاری سے 2سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہو گا ۔گوادر بندرگاہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرزاق درانی نے وفد سے ملاقات میں بتایا کہ گودار بندرگاہ سے جہازوں کو تیل کی سپلائی پر کوئی اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی کوئی ٹیکس عائد کیاجائے گا لہٰذا شپنگ کمپنیاں اپنے جہازوں کو فیول کی فراہمی کے لیے گوادر کا رُخ کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…