منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے دنیا کی خطرناک ترین بیماری کی دوا تیار کر لی ، دعوی سے دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

یروشلم(آئی این پی)سائنسدانوں نے ایڈز اور ایچ آئی وی سے نجات کی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابقسائنسدانوں نے ایک ایسی دوا تیار کرلی ہے جس کے بارے میں انہیں توقع ہے کہ یہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکے گی۔اسرائیل کی یروشلم یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسے پروٹین کو شناخت کیا ہے جس کے بارے میں ان کا دعوی ہے کہ وہ صرف آٹھ دن میں متاثرہ افراد کے اندر اس وائرس کو 97 فیصد تک کم کردیتا ہے۔اس دریافت سے یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ اس مرض کے شکار افراد کو مدد مل سکے گی جس کے نتیجے میں 2015 میں دنیا بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ایچ آئی وی وائرس خون کے سفید خلیات کی ایک قسم کو سی ڈی فور کو نشانہ بناتا ہے جسے جسم امراض جیسے فلو کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔یہ وائرس ان خلیات کی اندرونی مشینری کو ایسے استعمال کرتا ہے کہ اپنی زیادہ سے زیادہ نقلیں بنا کر انہیں تباہ کردیتا ہے۔جب سی ڈی فور خلیات کی تباہی کا عمل خون میں 200 فی کیوبک ملی میٹر تک پہنچ جائے تو اسے ایڈز قرار دیا جاتا ہے۔یہ نئی دوا ٹیسٹ ٹیوبز کے ذریعے ایڈز کے شکار دس مریضوں کے خون میں شامل کی گئی جس میں موجود اجزاڈی این اے میں موجود وائرس کی نقلوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے متاثرہ سفید خلیات کو تباہ کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ وائرس مزید پھیل نہیں پاتا۔اب تک اس دوا کی آزمائش سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ بہت جلد اس کی مدد سے ایچ آئی وی کے شکار سو فیصد خلیات کو ختم کیا جاسکے گا۔ایچ آئی وی کے شکار افراد کو ابھی روزانہ ادویات کا استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ اس مرض کو دبایا جاسکے مگر اب تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔محققین کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ متاثرہ خلیات کو ختم کردیا جائے تاکہ اس وائرس کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…