ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ کو بڑا جھٹکا، ڈالر کی چھٹی ہو گئی چین اور پاکستان نے اپنی کرنسی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور چین کے مابین ہونے والی اربوں کی تجارت دونوں ممالک کی مقامی کرنسی میں شروع کئے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے تاجر ڈالرز کی بجائےمقامی کرنسی میں تجارت کر سکیں گے ، جس کےنتیجے میں علاقے سے امریکی ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نیا اقتصادی دور شروع ہوگا ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین کے مابین اس وقت تک تمام تجارت ڈالرز میں ہوتی ہے جس کے باعث مقامی تاجروں کو اس سلسلے میں پیسوں کی منتقلی کے عمل میں بہت رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ مگر اب اس مشکل دور کا اختتام ہونے جا رہا ہے ۔ پاکستان اور چین کے مابین دو سال قبل کرنسی سویپ معاہدے کے تحت اب سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کی جانب سے تاجروں کو مقامی کرنسی میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والی تجارت کے لئے رقوم جمع کروانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کی جانب سے اس سلسلے میں روڈ شو کا انعقاد کیا جا رہا ہے روڈ شو میں بک کے چیف ایگزیکٹیو آفسیر شہزاد واڈا نے میڈیا کو بتایا کہ سٹیٹ بنک کے ساتھ اس سلسلے میں ہونے والی ان کی ملاقاتیں بہت نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں جس کے بعد اب دونوں ممالک کے مابین ہونے والی تجارت بنک کی دونوں ممالک میںقائم شدہ شاخوں کے ذریعے مقامی کرنسی میں ہی کی جائے گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں مرکزی بنک کی جانب سے تمام سہولیات فراہم کئے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بنک کی جانب سے یہ روڈ شو انٹرنیشنل سیریز کا حصہ ہے جس کے تحت چین میں واقع سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کی جانب سے مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک میں بھی اس

طرح کے روڈ شوز کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ چین کی جانب سے متحدہ عرب امارا، قطر اور ہانگ کانگ سمیت 8 دیگر ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے سلسلے میں وہاں بھی روڈ شوز منعقد کئے جا رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردی خصوصی حقوق سپیشل ڈرائنگ رائٹس کے تحت لسٹ آف گلوبل کرنسیز میں رینمبی کو شامل کیا گیا ہے جس کے بعد چین ایسے روڈ شوز منعقد کروا رہا ہے ، جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری جو چھیالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے اور اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مقامی تاجروںکے مابین بھی اربوں کی تجارت کا راستہ کھل گیا ہے جس کے بعد مقامی کرنسی میں تجارت کے نتیجے میں ڈالر کی اجارہ داری خطے سے ختم ہو جائے گی جبکہ مقامی کرنسی کو استحکام حاصل ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…