جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کاہمسایہ ملک کے ساتھ اہم معاہدہ ،چین کی آفرنے ہلچل مچادی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا انتہائی اہم اور سٹریٹجک منصوبہ مالی و سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے تاحال کھٹائی میں پڑا تھا۔ لیکن اب چین نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری کرنے کی حامی بھر لی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چین نے گوادر سے لے کر ایرانی سرحد تک پائپ لائن کی تعمیر کے لئے اربوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کے لئے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

چائنا پٹرولیم پائپ لائن بیورو، جو کہ پہلے ہی گوادر نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل اور پائپ لائن کے 1.4 ارب ڈالر مالیت کے پراجیکٹ پر کام کررہی ہے۔ گوادر سے ایرانی سرحد تک پائپ لائن بچھانے کے لئے بھی تیار ہے۔ چین ایل این جی پائپ لائن پراجیکٹ کے لئے کل اخراجات کا 85 فیصد فراہم کررہا ہے اور اسی ماڈل کی طرز پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا باقی ماندہ حصہ بھی تعمیر کرنے پر رضامند ہے۔چین کی جانب سے گوادر سے لے کر ایرانی سرحد تک 80 کلومیٹر پر محیط پائپ لائن کی تعمیر پر کام شروع کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کردیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن سٹریٹجک نوعیت کا پراجیکٹ ہوگا کیونکہ ہنگامی حالات کی صورت میں ایل این جی کی سپلائی بند ہوجانے پر بھی پاکستان کو اس پائپ لائن کے ذریعے گیس کی سپلائی جاری رہے گی۔

حکومت پاکستان گوادر کی بندرگاہ پر دو عدد فلوٹنگ ٹرمینل تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔ جہاں 1200ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کو ہینڈل کرنے کی سہولت دستیاب ہو گی۔ اس منصوبے پر بھی چینی کمپنی کام کرے گی اور اس کے لئے فنڈنگ بھی چین کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…