جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے سکواش لیجنڈ جہانگیر خان کا ایسا ریکارڈ جو آج تک کوئی نہ توڑ سکا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے لیجینڈ جہانگیر خان کی شہرت ایک ناقابل شکست سکواش کھلاڑی کے طور پر رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے لگاتار 555 میچوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔لیکن ایک نئی کتاب میں کہا گیا ہے کہ یہ تعداد 555 سے کہیں کم ہے جبکہ جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ اگر نمائشی اور دیگر میچز کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔خیال رہے کہ سنہ 1981 اور 1986 کے درمیان تقریبا ساڑھے پانچ سال تک جہانگیر خان ناقابل تسخیر رہے۔لیکن کتاب کے مصنفین روڈ گلمور اور ایلن تھیچر کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں کوئی میچوں کا باضابطہ ریکارڈ نہیں رکھتا تھا۔انھوں نے کہا کہ یہ واقعتاً غلط تعداد ہے بہرحال جہانگیر خان کے پاس تمام کھیلوں میں لگاتار میچ نہ ہارنے کا ریکارڈ ہے۔گلمور نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: ‘اس زمانے میں کوئی بھی ان کے میچوں کا ریکارڈ نہیں رکھتا تھا اور اس زمانے کی خبروں میں ایک بار بھی اس کے متعلق کوئی بات نہیں آئی۔جہانگیر خان مسلسل ساڑھے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے’ہمارے خیال سے یہ تعداد کافی کم ہو گی۔ اگر انھوں نے پانچ سال تک سارے 20 ٹورنامنٹ میں ہر سال شرکت کی تب بھی یہ تعداد کم ہوگی۔’دوسری جانب جہانگیر خان نے کہا کہ ‘اگر آپ سارے میچوں کا حساب لگائیں تو یہ تعداد کہیں زیادہ ہوگی کیونکہ میں نے بہت سے نمائشی اور انویٹیشنل میچوں میں بھی شرکت کی ہے اور میں ان میں بھی کامیاب رہتا تھا۔’انھوں نے کہا: ‘555 صرف میرے ٹورنامنٹ کے میچوں کی تعداد ہوگی۔ لیکن اگر آپ سارے میچز کو لیں تو یہ تعداد چھ سات سو کے درمیان ہوگی کیونکہ میں اس وقت ہارتا نہیں تھا۔’جہانگیر خان کی لگاتار جیت کے سلسلے کو نیوزی لینڈ کے کھلاڑی راس نارمن نے 1986 میں توڑا تھا جبکہ وہ 1993 میں ریٹائر ہو گئے تھے۔جہانگیر خان نے 1982 سے 1991 کے درمیان چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اور دس مرتبہ برٹش اوپن مقابلے جیتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…