جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بلیوں کے لیے بھی اولڈ ہوم تیار

datetime 3  مارچ‬‮  2015 |

برطانیہ(نیوز ڈیسک ) کاﺅنٹی لنکاشائر میں بلّیوں کے لیے اولڈ ہوم قائم کیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ عمررسیدہ بلّیوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا جانے والا یہ دنیا کا پہلا اولڈ ہوم ہے۔ اس کے مکینوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے۔ ایک طرح سے یہ بلیوں کی آخری آرام گاہ ہے کیوں کہ وہ آخری سانس تک یہاں قیام کریں گی۔یہ اولڈ ہوم یا ریٹائرمنٹ ہوم بالخصوص ان مالکان کو ذہن میں رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے جو یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی پالتو بلی کا کیا ہوگا۔ اس اولڈ ہوم کو ”لنکاشائر ٹرسٹ فار کیٹس“ کا نام دیا گیا ہے۔ اولڈ ہوم کی ویب سائٹ پر بلیوں کے مالکان کی توجہ اس جانب دلائی گئی ہے کہ ہم سب یہ سمجھتے ہیں ہمیشہ زندہ رہیں گے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہماری زندگی اپنے پالتو جانوروں سے پہلے ختم ہوگئی تو ان کا کیا ہوگا۔“ان کی اس پریشانی کو حل کرنے کے لیے ہی جین ہلز نے یہ ٹرسٹ قائم کیا ہے۔ یہ منفرد اولڈ ہوم اوسوبائی نامی گاو¿ں کے قریب سات ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کی عمارت تین بڑے کمروں پر مشتمل ہے جن میں ہیٹنگ کا مرکزی نظام موجود ہے۔ کمروں میں دروازے جنوب کی طرف بنائے گئے ہیں تاکہ بلیاں جی بھر کر ’ غسل آفتابی‘ سے لطف اندوز ہوسکیں۔ اولڈ ہوم میں بلیوں کو اعلیٰ معیار کی خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے لیے آرام دہ بستر، سوفے اور دیگر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ اولڈ ہوم کوئی ’ یتیم خانہ‘ نہیں ہے۔ البتہ مالکان سے فیس صرف ایک بار لی جاتی ہے جو 850 پاو¿نڈ ہے۔ مستقبل میں ہونے والے تمام اخراجات ٹرسٹ خود برداشت کرتا ہے۔ ان میں بلیوں کے علاج معالجے اور آپریشن وغیرہ پر ہونے والے اخراجات بھی شامل ہیں۔ مالکان کی جانب سے ٹرسٹ کے حوالے کی جانے والی بلیوں کے علاوہ یہاں لاوارث بلیوں کی بھی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ آوارہ اور لاوارث بلیاں، جانور پالنے کے خواہش مند افراد کے حوالے بھی کی جاتی ہیں۔ ان بلیوں کو ملاکو ٹرسٹ میں جانوروں کی تعداد 400 ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…