اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو بحیثیت ریگولیٹر ایک موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کے معیار میں مزید بہتری لائی جاسکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت یقینی بنائی جائے ۔ وہ منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔اجلاس میں پی ٹی اے کی جانب سے سمز کی تصدیق کے عمل اور موبائل کمپنیوں کی جانب سے دیئے جانے والے پیکجز کے علاوہ دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ پاکستان کے بہت سارے علاقے اب بھی موبائل نیٹ ورک کی سہولت سے محروم ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یونیورسل سروسز فنڈ جانب سے ایسے منصوبوں کو جلد از جلد شروع کیا جائے جن کی بدولت دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی یہ سہولت میسر ہو۔انہوں نے کہا کہ دنیا بدل چکی ہے ۔سی پیک جیسے بڑے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں اور مواصلاتی نظام کو پھیلایا جارہا ہے لہذا ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کو بھی دور دراز علاقوں تک پھیلایا جائے ۔سموں کی مختلف موبائل کمپنیوں کی جانب سے مفت تقسیم کیے جانے پر کمیٹی نے ہدایات دیں کہ اس معاملے کو با غور دیکھنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ اس طرح کی سمیں کسی بھی غیر قانونی کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہیں ۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بعض اوقات سیکورٹی وجوہات کی بناء پر موبائل سروس بند کر دی جاتی ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ اس کے باوجود بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں کوئی مناسب پالیسی یا قواعد و ضوابط بنانے کی ضرورت ہے ۔ جس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں وزارت داخلہ سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی ۔کمیٹی کو چیئرمین پی ٹی اے نے آگاہ کیا کہ سموں کی تصدیق اور بائیومیٹرک نظام پر لانے کا عمل مئی2015 میں مکمل کیا گیا اور 9 کروڑ 83 لاکھ سمیں بلاک کر دی گئی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 13 کروڑ 40 لاکھ سمیں بائیومیٹرک نظام سے تصدیق شدہ ہیں جو کہ زیر استعمال ہیں۔تاہم انہوں نے آگاہ کیا کہ بعض آپریٹر ز بغیر معاوضے کے سمز دیتے ہیں جس کو استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے اور ایسی سموں کو غیر قانونی کارروائیوں کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔کمیٹی نے اس انکشاف پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔کمیٹی نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے دیئے گئے انکم ٹیکس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں ۔ ٹیکسوں کی مد میں صارفین کو لوٹا جارہا ہے ٹیکسوں کی مد میں صارفین کو لوٹا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ نائٹ پیکجزنے نوجوان نسل کونقصان پہنچایاہے اس لئے کمپنیوں کوکہاجائے کہ موبائل پیکجز کوبند کیاجائے اوراس کے بارے میں فوری رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے ۔ ۔چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پچھلے دوسال کی نسبت سپیڈ میں 33 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس میں بہتری لانے کیلئے مزید اقدامات ہو رہے ہیں ۔افغانستان کی سموں کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں استعمال کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغانستان اور بھارت کی سمیں پاکستان میں نہیں چل سکتیں تاہم افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں کچھ مقامات پر افغانستان کے ٹیلی کام آپریٹر ز کے سگنل آتے ہیں جن کو تکنیکی حوالے سے دیکھا جارہا ہے ۔سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اور سیکورٹی حالات کے پیش نظر ا س معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا۔آج کے اجلاس میں سینیٹرز مس نجمہ حمید، مسز کلثوم پروین اور حاجی سیف اللہ خان بنگش نے شرکت کی ۔
ٹیکسوں کی مد میں موبائل فون صارفین کو لوٹا جارہا ہے، نائٹ پیکجز۔۔۔نوجوانوں کیلئے بڑی خبر،پی ٹی اے کوبڑاحکم جاری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ
-
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی شدید گرمی برقرار، متعدد علاقوں میں بارش کا امکان
-
اسلام آباد ؛شاہین چوک پر فائرنگ، بیچ بچاؤ کرانے والے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن شہید
-
غیر ملکی خواتین مبینہ اغواء ، زیادتی کیس کو لاہور پولیس دیکھےگی یا سی سی ڈی ؟ ڈی آئی جی آپریشنز نے...



















































