اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’بھارت میں ہندوئوں کی دائر ہ اسلام میں جوک در جوک آمد‘‘  وجہ بھی سامنے آگئی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی پولیس نے دو طالب علموں کو حراست میں لے لیا ہے جنہوں نے ایک نچلی ذات کے لڑکے کو اس لیے مارا پیٹا کیوں کہ اس نے اسکول کے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کیے تھے۔ اس لڑکے پر تشدد کی ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیل گئی ہے۔ فرا نسیسی خبر رسا ں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے این ڈی ٹی وی پر نچلی ذات کے اس سولہ سالہ لڑکے کا تحریر کیا ہوا ایک خط دکھایا جارہا ہے جس میں وہ تشدد اور ظلم کے خاتمے کی التجاء کر رہا ہے۔ کلاس روم میں اس لڑکے کو مارنے کی ویڈیو بھارت کے کئی نیوز چینلز پر بھی دکھائی گئی۔اس لڑکے کا کہنا ہے کہ اسے مارنے کا سلسلہ دو سال تک جاری رہا۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر بھارت میں نچلی ذات کے افراد کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور معتصبانہ رویے کے موضوع کو ایک مرتبہ اجاگر کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ویڈیو کو دیکھ کر کارروائی کی۔ پولیس افسر ببن بیتھا نے بتایا،’’اس لڑکے پر کافی عرصے سے تشدد کیا جارہا تھا۔دلتوں کو بھارت میں اچھوت بھی کہا جاتا تھا۔ انہیں ماضی میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی اور چھوٹی عمر سے ہی انہیں صرف انتہائی معمولی نوکریاں کرنے کی ہی اجازت ہوتی تھی۔ این ڈی ٹی وی کو بھیجے گئے خط میں اس لڑکے نے لکھا ہے،’’ میں دلت ہوں اور میں اسکول میں بہت اچھا ہوں، اچھے نمبر حاصل کرتا ہوں، اس بات پر میرے گھر والے فخر کرتے ہیں لیکن مجھے اسی وجہ سے کلاس میں شرمندگی اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگلے برس میرے فائنل امتحانات ہیں اور اب اس ماحول میں، میں کیسے تیاری کروں‘‘۔اسی برس جولائی میں بھی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی تھی جس میں دلت ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک گائے کو جان سے مارنے کی وجہ سے کوڑے مارے جا رہے تھے۔ اس ویڈیو کے بعد بھارت میں دلتوں نے احتجاج کیا تھا۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی مرتبہ عوامی سطح پر دلتوں پر حملہ کرنے کے عمل کو روکنے کا کہا ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں ہندوئوں کی جانب سے دلت برادری پر بے انتہا مظالم کے بعد دلت لوگ جوک در جوک دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…