بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ اس وقت ہمارے ساتھ یہ کام کرنے میں مصروف ہے بھارت نے ایک بار پھر زار و قطار رونا شروع کر دیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ بند کردینی چاہیے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مدد کی بھی پیشکش کردی۔چندی گڑھ میں ریجنل ایڈیٹرز کانفرنس سے خطاب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت پاکستانی عوام کے خلاف نہیں لیکن پاکستانی حکومت سے مسئلہ ہے جس نے ’دہشت گردی کو پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے‘۔راج ناتھ سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا میں بھی تنہا ہوکر رہ گیا ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں اسلام آباد کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس سے قبل اسلام آباد کو دہشت گردی کی فیکٹری بند کرنی ہوگی جبکہ ایسا کرنے سے ترقی کی راہیں کھلیں گی اور جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوگا‘۔بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پیش بندی کے طور پر کی جانے والی کارروائی تھی اور بھارت پاکستانی عوام کے حوالے سے کوئی بری نیت نہیں رکھتا۔راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحد 2018 تک مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ 181.85 کلو میٹر کا سرحدی علاقہ ایسا ہے جہاں طبعی طور پر سرحد پر رکاوٹیں نہیں لگائی جاسکتیں کیوں کہ یہ ساحلی، کریک اور دلدلی علاقے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے علاقوں میں کیمروں، سینسرز، ریڈارز، لیزرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جائے گی ۔بھارتی وزیر داخلہ نے بتایا کہ انڈین بارڈر سیکیورٹی فورس جموں، پنجاب اور گجرات میں اس حوالے سے دستیاب ٹیکنالوجی کے تجربات کررہی ہے۔راج ناتھ سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں مصروف ہے لہٰذا پاک بھارت سرحد کے اطراف کے علاقوں کی انتظام کاری ایک چیلنج بن چکی ہے لیکن جو سانپ پالتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ انہیں بھی ڈس سکتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اگر ’پاکستان کی نیت صاف رہے تو بھارت آزاد کشمیر سمیت پاکستان میں انسداد دہشت گردی مہم شروع کرنے میں تعاون کرسکتا ہے، اگر پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ ہماری مدد لے سکتا ہے تو ہم مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے عزائم واضح نہیں‘۔راج ناتھ سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بلکہ ایک ایسی سوچ کو بھی پروان چڑھاتا ہے جو چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی جائز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…