اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

تمام شیڈولڈ بینکس ، مالیاتی ادارے اور چیمبرز کی بھی تعطیلات کا اعلان

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)تمام شیڈولڈ بینکس ، مالیاتی ادارے اور چیمبرز دو روز کے لئے بند رہیں گے۔ حکومت کی طرف سے نو اور دس محرم الحرام ( منگل اور بدھ ) کو تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے باعث سٹیٹ بینک آف پاکستان ،سٹیٹ بینک بینکنگ سروسز آف پاکستان ،نیشنل بینک آف پاکستان سمیت تمام شیڈولڈ بینکس ، مالیاتی ادارے ،لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت دیگر چیمبرز آج ( منگل ) سے و روز بند رہیں گے اور جمعرات کے روز سے دوبارہ اپنی سر گرمیوں کا آغاز کریں گے۔

وزارت پانی وبجلی نے کہا ہے کہ ملک سے جنوری 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا ٗ 2018ء کے آخر تک 4 ہزار میگا واٹ تک اضافی بجلی بھی میسر ہوگی ٗ رواں ماہ کے آخر تک سرکلر ڈیٹ 310ارب ہوگا ،2015ء میں بہتر پالیسیوں کی بدولت 93.4 فیصد ریکوری کی گئی جس سے 51ارب روپے کا فائدہ ہوا، رواں سال کے آخر تک داسو پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائیگا وزارت پانی و بجلی کے ذرائع نے بتایا کہ2013ء میں ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5500میگاواٹ تھا ٗ صنعتوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ شہری علاقوں میں 12گھنٹے ٗدیہی علاقوں میں 14ٗ14گھنٹے تھا، سرکلر ڈیٹ میں ماہانہ 14سے15ارب کے حساب سے اضافہ ہو رہا تھا ،2014ء میں صنعتوں کو زیرو لوڈشیڈنگ سمیت سخت مانیٹرنگ سے وصولیوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے گئے ٗ بہتر کسٹمر سروسز فراہم کی گئیں،2015ء میں بہتر پالیسیوں کی بدولت 93.4 فیصد ریکوری کی گئی جس سے 51ارب روپے کا فائدہ ہوا، اسی طرح لائن لاسز جو ہمیشہ 19 فیصد سے زیادہ رہے ٗ2015ء میں 18فیصد تک آگئے۔ذرائع نے بتایا بہترمنصوبہ بندی کے ذریعے سرکلر ڈیٹ کو کنٹرول نہ کیا جاتا تو اس وقت سرکلر ڈیٹ پھر 516ارب روپے ہوتا جو کہ اس وقت 320 ارب روپے ہے اور رواں ماہ کے آخر تک 310 ارب ہو جائے گا،علاو ازیں 2015ء میں پی ایس او کو 126فیصد ادائیگیاں کی گئیں جبکہ آئی پی پیز کو بھی ادائیگیاں یقینی بنائی گئیں جس سے پاور سیکٹر کو فیول کے مسائل ختم ہو گئے اور بحرانی کیفیت کے خاتمے سے بہتر پیداوار میں کامیابی ہوئی،ذرائع نے بتایا کہ ماضی میں یہ تصور تھا کہ 15ہزار میگاواٹ سے زیادہ ملک میں بجلی پیدا نہیں کی جا سکتی ،اس کے برعکس 2015ء میں بجلی کی پیداوار 16866 میگاواٹ جبکہ 2016ء میں 17340 میگاواٹ تک پہنچ گئی،ملک میں 1994ء سے 2013ء تک 8756میگاواٹ بجلی کے پرائیویٹ سیکٹر میں آئی پی پیز لگے جبکہ صرف 2015ء میں 12113میگاواٹ کے پرائیویٹ سیکٹر میں منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، اسی طرح سال 2015ء سرمایہ کاری کے لحاظ سے تاریخی سال ثابت ہوا۔ذرائع نے بتایا کہ رواں سال کے آخر میں داسو پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ، ذرائع نے بتایا کہ جونئے پاور پلانٹ سسٹم میں آرہے ہیں ان سے زیادہ موثر پلانٹ دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…