اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

دریائے براہما پترا پر ڈیم کی تعمیر ،چین نے باضابطہ اعلان کردیا،بھارت میں ہنگامہ

datetime 9  اکتوبر‬‮  2016 |

بیجنگ(این این آئی) چین نے بھارت کے خدشات کو دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے براہما پترا سے آکر ملنے والے دریا پر ڈیم کی تعمیر سے بھارت کو پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ ڈیم کی تعمیر تبت میں لوگوں کے ذریعہ معاش، فوڈ سیکیورٹی اور سیلاب سے بچاؤ کیلئے انتہائی ضروری ہے۔وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تعمیر ہونے والے ڈیم کی گنجائش یارلونگ ڑینگ بو سے براہما پترا جانے والے سالانہ پانی کا 0.02 فیصد بھی نہیں لہٰذا ڈیم کی تعمیر سے نچلے علاقوں پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔بیان میں کہا گیا کہ لالہو ڈیم پروجیکٹ دریائے شیابوکو پر بننا ہے جو آگے چل کر دریائے براہما پترا سے ملتا ہے اور یہ دریا مکمل طور پر چین کی حدود میں ہے۔براہما پترا پر ڈیم کی تعمیر کے باضابطہ اعلان پر بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے بھارتی حکومت نے ڈیم کا معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا اعلان کردیاہے۔

ایٹمی دھماکوں کے شوقین ملک شمالی کوریا نے ایک اور ایٹمی دھماکے کی تیاری پکڑنے سے قبل شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ دنیا میں اس کا واحد حمایتی ملک چین بھی اس کے خلاف ہوسکتاہے، بلکہ چین کی جانب سے اس پر حملے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ شمالی کوریا اپنے زیر زمین ایٹمی ٹیسٹ مرکز کو متحرک کرچکا ہے اور ایک اور ایٹمی دھماکے کے لئے ضروری ساز و سامان اس مرکز پر پہنچایا جارہا ہے۔ اخبار ڈیلی سٹار کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع سامنے آتے ہی چینی رہنماؤں نے اس بات پر غوروفکر شروع کردیا ہے کہ شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے ایٹمی عزائم کا سدباب کس طرح کیا جائے، اور اس ضمن میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ شمالی کوریا پر حملہ کرکے اس کے صدر کم جونگ ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔

اخبار کے مطابق یہ انکشاف کولمبیا یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئر ز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڑی سن نے امریکی دارالحکومت میں ایک سکیورٹی فورم سے خطاب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحرالکاہل میں اس وقت پانچ فوجی قوتیں سرگرم ہیں اور چین کی جانب سے شمالی کوریا پر حملے کی صورت میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور بحرالکاہل کا خطہ تیسری جنگ عظیم کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔پروفیسر ڑی کے مطابق چینی رہنماؤں نے مختلف امکانا ت پر غور کیا ہے، جن میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے شمالی کوریا پر سرجیکل سٹرائیک اور چین کی جانب سے شمالی کوریا پر حملے کے امکان کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پروفیسر ڑی کے مطابق چینی رہنما شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے خوش نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ شمالی کوریا کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے۔ا س مقصد کے لئے شمالی کوریا میں حکومت بدلنے کی صورت پیش آئی تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے چینی افواج شمالی کوریا میں داخل ہوسکتی ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل جنوبی کوریا کی جانب سے بھی یہ بیان منظر عام پر آ چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر جنوبی کوریا، شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کو قتل کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…