لاہور( این این آئی)ایران کے قونصل جنرل محمد حسین بانی اسدی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور ایک بہت بڑی معاشی پیش رفت ہے اور ایران اس کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط، سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور نائب صدر محمد ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ ایرانی قونصل جنرل ایک ایرانی وفد کی سربراہی کررہے تھے۔ وفد کے اراکین احمد سبحانی، مقصود جاوید، لاہور چیمبر کے سابق صدر سید محسن رضا بخاری، سابق سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید، اویس پراچہ، میاں محمد نواز، علی حسام اصغرمعظم رشید، محمد ارشد چودھری، طاہر منظور چودھری، سید مختار علی، شاہد نذیر اور شاہ رخ بٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایرانی بینک کی برانچ جلد ہی کراچی میں کام شروع کردے گی، سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس سلسلے معاملات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ ہر صورت مکمل ہونا چاہیے، اس سے پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں لاہور چیمبر کے نئے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر ایک تھنک ٹینک ہے جو علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے منصوبوں میں پاکستانی اور ایرانی تاجروں کے درمیان اشتراک بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ونوں ممالک کے درمیان وفود کا تبادلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ اس سے دوطرفہ تجارت بڑھانے میں بہت مدد ملتی ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کو مارکیٹ ریسرچ پر توجہ دینی چاہیے ،دونوں ممالک درآمدات اور برآمدات کے سلسلے میں ایک دوسرے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایس ایم ایز، آئل اینڈ گیس، پاور پراجیکٹس، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، سیمنٹ اور کیمیکل وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کرنی چاہیے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور نائب صدر ناصر سعید خان نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی کے فقدان کی وجہ سے پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے، اس سلسلے میں ایران پاکستان کی مدد کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات مشہور ہیں جنہیں ایران میں خاطر خواہ طریقے سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔