اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ماں کی مامتا کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہونگے مگر یہ واقعہ پڑھ کر آپ دہل کر رہ جائیں گے

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اس دنیائے آب گِل میں روزانہ کی بنیادوں پر ہزاروں لاکھوں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جنہیں سن کرعقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے اور انسان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے ۔ اور اب حال ہی میں سعودی عرب میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ دنیا دہل کر رہ گئی ۔ سعودی عرب کی الاحساء گورنری میں ایک سفاک عورت نے چھ سالہ سوتیلی بیٹی کو چاقو سے ذبح کرکے اس کی لاش سڑک پر پھینک دی مگر مقامی شہریوں نے بچی کے قتل کے واقعے کو دیکھ لیا جس پر قاتلہ کو حراست میں لے لیا گیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق چھ سالہ بچی الاحساء گورنری کی محاسن کالونی میں قائم ایک پرائمری اسکول میں پہلی جماعت کی طالبہ تھی۔ وہ مقامی وقت کے مطابق صبح بجے اسکول پہنچی۔ پہلی اور دوسری کلاس لینے کے بعد بچی اپنی سوتیلی والدہ جو اسکول میں اس کے ہمراہ آئی تھی واپس چلی گئی۔ سفاک سوتیلی والدہ نے بیٹی کو سڑک کے کنارے گھر کے قریب چاقو سے ذبح کردیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ مقتولہ بچی کی شناخت ریم الرشیدی کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر محض چھ سال ہے۔ اس کی والدہ پہلے ہی فوت ہوچکی تھی اور والد نے دوسری شادی کی۔ سوتیلی ماں بننے والی خاتون نے سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کو قتل کردیا۔ عینی شاہدین نے فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر مقتولہ کی میت اٹھائی اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے گئے۔ جب کہ قاتلہ کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ایک معصوم بچی کے سوتیلی ماں کے ہاتھوں قتل کے بھیانک واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ الاحساء میں محکمہ تعلیم اور بہبود اطفال کمیٹی کی طرف سے واقع کی جامع تحقیقات کرانے اور قاتل عورت کو قرار واقعی سزا دلوانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ الاحساء میں بہبود اطفال مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد البوعلی نے قتل کے ہولناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معصوم بچی کی قاتلہ کو سزا دلوانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…