اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’پاکستانی چھا گئے ‘‘ سعودی شہزادے سے مہنگی ترین کیا چیز خرید ی ؟جان ہوش اڑ جائینگے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی نژاد امریکی تاجر نے سعودی شہزادے کا مہنگا ترین ہوٹل خرید لیا ،سودا 22 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر میں طے پایا ، مالیت 17 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے لے لگ بھگ بنتی ہےپاکستانی نڑاد امریکی تاجر شاہد خان کی کمپنی نے سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال سے دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں سے ایک خرید لیا اور یہ سودا 22 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر میں طے پایا ہے جس کی مالیت 17 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے لے لگ بھگ بنتی ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے امریکی تاجر شاہد خان فلیکس این گیٹ آٹو پارٹس کمپنی کے مالک اور انگلش پریمیئر لیگ کلب فلہیم کے مالک بھی ہیں اور اب انہوں نے سعودی ارب پتی شہزادے ولید بن طلال سے قیمتی ہوٹل خرید لیا۔ شاہ سعود کی کنگڈم ہولڈنگ کمپنی کے مطابق چار سال قبل یہ ہوٹل 20 کروڑ کینیڈین ڈالر میں خریدا گیا تھا اور اس عرصے میں ایک کروڑ 70 لاکھ کینیڈین ڈالر کا منافع بھی کمایا گیا۔ اس ہوٹل کا نام فور سیزن ہے جو کینیڈا میں ہے جسے دنیا کے مشہور ترین ہوٹلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔۔

یہ خبر بھی پڑھیں:

کبوتروں کے بارے میں نئی حیران کن تحقیق۔۔۔ ایسا کارنامہ کر سکتے ہیں کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے
اگرچہ کبوتر ہمیشہ سے بھوسے اور فرنچ فرائز کے درمیان فرق نہیں جانتے تھے، لیکن وہ ایک دوسرے کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اب انہیں گرے ہوئے رہنمائوں سے متعلق خبریں پڑھنے کے قابل ہونا چاہیے۔ معروف سائنسی جریدے، پاپولر سائنس کے مطابق، پی این اے ایس میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کبوتر کی الفاظ کو پہچاننے کی صلاحیت سے زبان کے نقطہ آغاز کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ بتدریج تربیت کے ذریعے پرندوں نے مختلف اشکال کو پہچاننا اور الفاظ سیکھے۔ آٹھ ماہ تک جاری رہنے والے اس تربیتی عمل کے دوران چار کبوتروں کو چار حرفی الفاظ کو غیر مستعمل الفاظ سے فرق کرنا سکھایا گیا۔ یہ کبوتر صحیح ہجے اور غلط ہجے والے الفاظ کے درمیان فرق بتانے کے قابل تھے۔ جیسا کہ very اور very۔ اس تحقیق کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اس اعتبار سے ’’ کبوتروں کی کارکردگی بن مانس کے مقابلے میں ایک تعلیم یافتہ شخص سے زیادہ موازنے کے قابل ہوتی ہے۔‘‘ اس تجربے کے آخر میں کبوتروں نے 26اور 58 الفاظ کے درمیان تمیز کرنا سیکھا، جن میں ’’ورلڈ‘‘ یا ’’ڈومینیشن‘‘ جیسے الفاظ شامل نہیں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…