جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

عین موقع پر پاناما لیکس احتجاج کا ڈراپ سین کرنے کی آخری کوشش،ن لیگ نے بڑی پیشکش کردی

datetime 28  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیر مملکت نجکاری محمد زبیر عمر اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی اسمبلی دانیال عزیز اور طلال چوہدری نے ایک بار پھر اپوزیشن کوپانامہ لیکس میں شامل تمام افراد کیخلاف یکساں تحقیقات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات میں حکومت نہیں خود اپوزیشن رکاوٹ ہے، ابتک تمام اداروں نے قانون کے مطابق تحقیقات کی ہیں،اپوزیشن افراتفری کا شکارہے ، سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے ان کی طوفان بدتمیزی کیوجہ سے انکار کیا، الیکشن کمیشن ، نیب کو اوے کہہ کر دھمکی دی گئی اور اب تاخیر کا ذمہ دار ن لیگ کو ٹھہرایا جاتا ہے، اپوزیشن نے نئے قانون کی بات کی وہ بھی بنا کر پیش کر دیا پھر بھی اپوزیشن اپنے مطالبات پر بکھری ہوئی ہے،عمران خان ساڑھے 5 پانچ ماہ پہلے اداروں کے پاس کیوں نہیں گئے ، سپریم کورٹ درخواست میں صرف وزیراعظم کو فریق بنایا گیا،آف شور کمپنیوں میں جہانگیر ترین ، علیم خان ، عمران خان کی بہنیں بھی شامل ہیں، کرپشن میں شوکت خانم اسپتال کا نام بھی آ رہا ہے، یہ وقت جلسے جلوسوں کا نہیں بین الاقوامی سازش کے خلاف اتحاد کرنے کا ہے، تاہم یہ لوگ لاشوں کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران وزیر مملکت محمد زبیر کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس پر الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ اور ایف بی آر سمیت تمام اداروں نے قانون کے مطابق کام کیا، عمران خان ایک قانون بتا دیں جس پر اداروں نے عمل نہ کیا ہو۔عمران خان کہتے ہیں اداروں نے کام نہیں کیا۔ ایف بی آر نے پاناما لیکس میں شامل افراد کو نوٹس بھیجے اور نوٹسز بھیجنے میں بھی وقت لگتا ہے، پاناما لیکس پر الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں بھی گئے، عمران خان بتائیں ان کا دور حکومت ہوتا تو یہ ادارے کس طرح کام کرتے، عمران خان ایک قانون بتا دیں جس پر اداروں نے عمل نہ کیا ہو، ملکی قانون کے مطابق تمام ممالک میں تحقیقات ہوئیں، یہ قوانین مسلم لیگ (ن) نے نہیں بنائے۔مسلم لیگ کے رہنمائدانیال عزیز نے کہا کہ پانامہ لیکس پر ہم نے نیا قانون بھی بنا کر پیش کردیا جس پر اپوزیشن ابھی تک افراتفری کا شکارہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان بتائیں وہ ساڑھے پانچ ماہ پہلے اداروں کے پاس کیوں نہیں گئے، اپوزیشن ابھی تک افراتفری کا شکارہے، سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے ان کی طوفان بدتمیزی کیوجہ سے انکار کیا، الیکشن کمیشن ، نیب کو اوے کہہ کر دھمکی دی گئی اور اب تاخیر کا ذمہ دار ن لیگ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا اپوزیشن نے نئے قانون کی بات کی وہ بھی بنا کر پیش کر دیا پھر بھی اپوزیشن اپنے مطالبات پر بکھری ہوئی ہے، عمران خان ساڑھے 5 پانچ ماہ پہلے اداروں کے پاس کیوں نہیں گئے ، سپریم کورٹ درخواست میں صرف وزیراعظم کو فریق بنایا گیا۔ دانیال عزیز نے مزید کہا آف شور کمپنیوں میں جہانگیر ترین ، علیم خان ، عمران خان کی بہنیں بھی شامل ہیں۔ کرپشن میں شوکت خانم اسپتال کا نام بھی آ رہا ہے۔اس موقع پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ وقت جلسے جلوسوں کا نہیں بین الاقوامی سازش کے خلاف اتحاد کرنے کا ہے، تاہم یہ لوگ لاشوں کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…