ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کچلنے کیلئے مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ‘بھارتی وزیر داخلہ کا انکشاف

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کچلنے کے لیے ایک اور غیر مہلک ہتھیار کا استعمال کرنے پر غور شروع کردیا ،بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کو پاوا شیلز یعنی مرچوں سے بھرے ہوئے ہتھیار دیئے جائیں گے، جو عارضی طور پر ہدف کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کچلنے کے لیے ایک اور غیر مہلک ہتھیار کا استعمال کرنے پر غور شروع کردیا ہے ۔اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک حتمی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کو پاوا شیلز یعنی مرچوں سے بھرے ہوئے ہتھیار دیئے جائیں گے، جو عارضی طور پر ہدف کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتے ہیں۔پاوا یا پیلارگونک ایسڈ وینیلیلامائیڈ کو نونیوامائیڈ بھی کہتے ہیں، یہ ایک نامیاتی مرکب ہے، جو قدرتی طور پر مرچ پاؤڈر میں پایا جاتا ہے، ایک بار فائر ہونے پر پاوا شیلز پھٹ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہدف بے حرکت اور مفلوج ہوجاتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن (چھروں والی بندوق) کے استعمال پر شدید تنقید کی گئی، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔جس کے بعد بھارتی حکومت نے ایک 7 رکنی پینل تشکیل دیا، جس میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس اورآرڈیننس فیکٹری بورڈ کے اراکین شامل تھے۔مذکورہ پینل نے پاوا شیلز کی حمایت کی، جو پیلٹ گنز کے متبادل کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں اور اس بات کی تجویز دی کہ گوالیار میں بارڈر سیکیورٹی فورس کے ٹیئر اسموک یونٹ (ٹی ایس یو) کو ان شیلز کی فوری پروڈکشن کا ٹاسک دیا جانا چاہیے، جس کے پہلے مرحلے میں 5 ہزار پاوا شیلز تیار کیے جائیں۔بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے پینل نے پاوا شیلز کا عملی مظاہرہ بھی منعقد کیا۔واضح رہے کہ بھارتی فورس اس سے قبل 2010 کے بعد سے کشمیری مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے مرچوں پر مشتمل غیر مہلک حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرتی رہی ہے۔یاد رہے کہ رواں برس 15 جولائی کو مقبوضہمیں بھارتی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے قتل کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور وہاں مسلسل کرفیو نافذ ہے، جبکہ مظاہروں کے نتیجے میں اب تک80 سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…