اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

محمود خان اچکزئی کامطالبہ،انہیں موقع دیاجائے ،چوہدری نثار نے زبردست موقف اپنالیا

datetime 16  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میتھیو بریٹ امریکی جاسوس نہیں، نہ ہی اس سے حساس مقامات کے نقشے برآمد ہوئے،ویزہ جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی اور نوکری سے بھی نکالاجائے گا،سانحہ کوئٹہ پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر تحقیقات کر رہی ہیں،نیشنل ایکشن پلان کے 20میں سے9نکات صوبوں سے متعلق ہیں، اس معاملے پر صوبوں کو آن بورڈ لیا جائیگا۔رکن قومی اسمبلی محموداچکزئی نے کہا کہ میری عدم موجودگی میں وزیرداخلہ نے میرے متعلق بیان دیا ہے لہذا مجھے (آج) بدھ کو وقت دیاجائے جس پر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایوان میں دلائل پر بحث ہونی چاہیے،اچکزئی کومیری موجودگی میں بولنے کا موقع دیا جائے تاکہ معاملات کلیئر ہوں۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزرات داخلہ نے اہم کام کیا ہے اور امریکی ایجنٹ کو گرفتار کیا مگر48گھنٹوں میں اسے ویزہ دیا گیا اور اس شخص سے حساس مقامات کے نقشے بھی برآمد ہوئے اور جن لوگوں نے امریکی شخص کو ویزہ دیا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اس شخص کو 48گھنٹوں میں نہیں بلکہ 24گھنٹوں میں ویزہ دیا گیا،ویزہ کارڈمیں تمام سوالات خالی چھوڑے گئے اور ایک سوال کے جواب میں ہاں او نہیں میں دونوں پر درست کا نشان لگایا گیا تھا۔وزرات داخلہ وزرات خارجہ کے ساتھ مل کر اس اہم مسئلے کو منطقی انجام کو پہنچائیں گے۔2011میں سیکیورٹی ایجنسیز نے اسے پکڑا اور ہاتھا پائی ہوئی مگر ایجنسیز نے اس پر کوئی ایف آئی درج کرائی اور اس امریکی کے سسر نے اس پر مقدمہ درج کیا اور اسے ڈی پورٹ کردیا گیا تھا،امریکی سے کسی قسم کے حساس مقامات کے نقشے برآمد نہیں ہوئے،ایف آئی اے کا اہلکار جس نے ویزہ جاری کیا۔ اس کو نوکری سے بھی برخاست کیا جائیگا،ڈی جی ایف آئی اے اس معاملے پر وضاحت طلب کرلی اور حکومت نے ایک لاکھ انعام نشاندہی کرنے والے اہلکار کو دیا ،سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے قبل ازوقت بڑے بیانات سے احتراز کر رہے ہیں اور اس معاملے کی وفاقی حکومت کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور انگلیوں کے نشان ملے ہیں ۔اس پر تحقیقات ہو رہی ہیں اور ڈی این اے کے حوالے سے ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،ایک سر ملا ہے جو اس قابل نہیں کہ اس کا جائزہ لیا جاسکے،نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی دعوت دی جائے،نیپ کے 20نکات میں سے 4صوبوں کے اور 8وزارتوں سے متعلق ہیں اور 2نکات وزرات داخلہ سے متعلق ہیں اور 2نکات صوبوں اور وفاق سے متعلق ہیں،لیڈر شپ کی سطح پر اجلاس ہوں اور اس کمیٹی کا تعلق پارلیمان سے نہیں،محمود خان اچکزئی قابل احترام ہیں اور مجھ سے بھی پوچھا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…