اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھائی کے ہاتھوں قتل ہونیوالی متنازعہ ماڈل قندیل بلوچ نیجتنی جلدی شہرت پائی اتنی ہی جلدی موت کی وادی میں بھی اتر گئیں، ہر انسان کی طرح قندیل کی بھی خواہش تھی کہ وہ مشہور ہوجائیں، ان کی یہ خواہش تو پوری ہوگئی لیکن ایک اور خواہش جو پوری ہونے میں چند دن باقی تھے وہ اس سے محروم رہ گئیں۔ قندیل بلوچ لاہور میں سٹیج ڈرامہ کرنے کی خواہشمند تھیں لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور ملتان میں اپنے آبائی گھر میں ہی موت کی آغوش میں چلی گئیں ۔نجی اخبار کے مطابق قتل سے ایک روز قبل ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے قندیل بلوچ نے بتایا کہ سخی سرور سے ڈرامہ اور نئے گھر کے بارے میں معاملات طے پا گئے تھے جس کے تحت جمعہ کو قندیل بلوچ کو’ یا میر ا’کے عنوان سے سٹیج ڈرامہ کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پروڈیوسر ملک طارق نے کینٹ کے تھیٹر میں ڈرامہ کرنے کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ ڈرامہ پروڈیوسر قیصر ثنا اللہ خان نے بتایا قندیل بلوچ ، نرگس کے ساتھ ڈرامہ کرنے کی خواہشمند تھی لیکن اسے وقت ہی نہ ملا۔
قندیل بلوچ کی آخری خواہش کیا تھی؟ لاہور میں کیا کرنے والی تھیں؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وراثت
-
11 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان
-
پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیا
-
بینکوں میں بھاری رقوم رکھنے والوں کیلئے بری خبر
-
ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی، نیا مون سون سسٹم آج سے فعال، کئی علاقوں میں الرٹ جاری
-
13سالہ لڑکی سے 5 دن میں 30 افراد کی زیادتی
-
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
-
سولر پلیٹس کی قیمتوں میں کمی
-
ممانی کے ساتھ مبینہ تعلقات پر بھانجے نے ماموں کو ہلاک کردیا
-
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں گرنے لگیں
-
،تحریکِ انصاف کے متعدد رہنمائوں کا پاکستان مسلم لیگ (ن)میں شمولیت کا اعلان
-
ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری! 3 ہفتوں کی چھٹیوں کا شیڈول جاری
-
سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا
-
میرا بیٹا منت مرادوں کے بعد پیدا ہوا، ظالم نے میری دنیا اجاڑ دی، 6 سالہ ولی کے والد کی دہائی



















































