اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے گلی گلی مہم چلائیں گے،عمران خان

datetime 5  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن )چےئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت دو ٹوک رویہ اختیار کئے ہوئے ہے ،اور بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کر رہی ہے،پاناما پیپرز میں نام آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے،پانا ما پیپرز کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے،وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن سے رابطے کے ساتھ ساتھ گلی گلی مہم چلائیں گے اور ایسی صورت میں جمہوریت کے لیے کوئی خطرہ ثابت ہوا تو اسکی تمام ترذمہ داری وزیر اعظم نواز شریف پر عائد ہو گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹر ویو میں کیا۔چےئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور انکے خاندان حسن نواز،حسین نوازاور مریم نواز کے نام 1992سے 1994تک آف شور کمپنیاں رجسٹرڈ کروائی گئیں شریف خاندان کے آف شور کمپنیوں سے متعلق متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں،ایک جانب وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف آف شور کمپنی کی تردید کر رہی ہے دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف پارلیمنٹ میں جھوٹ بولتے ہیں،اور آف شور کمپنیوں سے متعلق وضاحت پیش نہیں کرتے،جبکہ وزیر اعظم اپنی صاحبزادی مریم نواز کے نام آف شور کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا اعتراف بھی کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ قومی دولت لوٹنے کے باوجود وزیراعظم قوم سے حقائق چھپا رہے ہیں ،وزیر اعظم کے بیان سے سیاسی بحران جنم لے رہا ہے،انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز میں صرف اہلیہ کا نام سامنے آمنے پر آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفی دیکر قوم پیغام دیا کہ کرپشن میں انکے خاندان کا نام آنے پر وہ مزید وزرات عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے اہل نہیں رہے،آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے نہ صرف اپنی قوم بلکہ عالمی سطح پر مثبت پیغام دیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاناما پیپرز کو منطقی انجام تک پہچانے کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے،پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز پر کام کر رہی ہے ،اگر کمیٹی ٹی اور آرز پر متفق نہیں ہو پاتی تو تحریک انصاف دوسرا راستہ اختیار کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…