اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ا سپیشل کورٹ نے پاکستانی حاجیوں کے لیے کیے گیے انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو حج کرپشن کیس میں 16 سال جبکہ قید کی سزا سنا دی ہے ،جب فیصلہ سنایا گیا تو تینوں ملزمان عدالت کے احاطے میں موجود تھے اور فیصلے کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ سابق ڈی جی حج راؤ شکیل احمد جن پر زیادہ سنگین الزامات تھے ان کو 40 سال قید جبکہ سابق ایڈیشنل سیکرٹری اآتاب احمد کو بھی 16 سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل ملک نذیر احمد نے حج کرپشن کیس کا مختصر فیصلہ سنایا۔حج کرپشن کیس کا مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں درج ہے، جس کے تفتیشی افسر غضنفر عباس نے ملزمان پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے۔عدالت کی جانب سے تینوں ملزمان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان کو اپیل کا حق حاصل ہے او ر وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جا سکتے ہیں سابق وفاقی وزیر نے سپیشل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں جائیں گے ۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عائد کئے گئے الزامات بے بنیاد ہیں حج کرپشن میں ان کو پھنسایا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ۔واضح رہے کہ حاجیوں کے لیے رہائش کے حصول میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سنہ 2010 میں پیپلز پارٹی دورِ حکومت میں سامنے آیا تھا اور ان افراد پر عازمین حج کے لیے مہنگے داموں کرائے پر عمارتیں حاصل کرنے کا الزام تھا۔ابتدائی طور پر اس وقت کے حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علماء4 اسلام (فضل الرحمن گروپ) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اعظم سواتی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حج انتظامات میں بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا۔حج انتظامات میں ہونے والے مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی نہ صرف ارکان پارلیمنٹ بلکہ سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی کی تھی۔سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اْن کے پاس اس بدعنوانی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حج کے دوران 35000 پاکستانی حاجیوں کے لیے حرم سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر جو رہائش گاہیں 3350 سعودی ریال میں مل رہی تھیں وزارت حج کے اعلیٰ حکام نے حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر دور وہی رہائش گاہیں عازمین حج کے لیے 3600 ریال پر حاصل کی تھیں۔اس خط پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر ہی شروع ہوئی تھی۔اس مقدمے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی کے رکن عبدالقادر گیلانی سے بھی تحقیقات کی گئی تھیں۔
حج کرپشن کیس ‘ سابق وفاقی وزیر کو 16 سال قید کی سزا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری



















































