اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کیا حفیظ واقعی انجرڈ ہیں؟

datetime 13  فروری‬‮  2015 |

لاہور آل راؤنڈر محمد حفیظ کی اچانک انجری اور پھر ورلڈ کپ سے ہنگامی طور پر باہر ہونے پر کئی سوالات نے جنم لیا ہے اور اب اس حوالے سے دبی دبی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ حفیظ نیپیئر میں نیوزی لینڈ کے خلاف 3 فروری کو شیڈول ایک روزہ میچ کے دوران فٹنس مسائل کا شکار ہو گئے تھے جس کے باعث وہ 6 فروری کو برسبین میں شیڈول بائیو مکینک ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے۔ یہ انجری جسے ابتدا میں معمولی قرار دیا جا رہا تھا، یکدم اتنی سنگین ہو گئی کہ آل راؤنڈر ورلڈ کپ سے قبل بنگلہ دیش کے خلاف وارم اپ میچ میں بھی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے اور پھر ہنگامی بنیادوں پر اس انجری کو سنجیدہ نوعیت کی قرار دے کر انھیں وطن واپسی کا ٹکٹ تھما دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کیویز کے خلاف میچ کے دوران حفیظ کو بائیں پنڈلی پر چوٹ آئی تھی جسے میڈیکل اصطلاح میں گریڈ ون انجری کہا جاتا ہے جو زیادہ سنجیدہ نوعیت کی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی انجری کا شکار کھلاڑی زیادہ سے زیادہ 15 دن میں صحت یاب ہوجاتے ہیں لیکن حفیظ پاکستان آنے سے پہلے ایک ہفتہ نیوزی لینڈ میں گزارنے کے باوجود ’صحتیاب‘ نہ ہو سکے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ان کا مناسب علاج ہوتا تو وہ ورلڈ کپ میں ہندوستان کے خلاف 15 فروری کو شیڈول میچ کے علاوہ 6 ہفتوں پر محیط کرکٹ کے سب سے بڑے میگا ایونٹ کے تمام میچزمیں ٹیم کو دستیاب ہو سکتے تھے لیکن ٹیم منیجمنٹ نے محمد حفیظ کو ان فٹ قرار دے کر ناصر جمشید کو کینگروز کے دیس بھجوانے کو فوقیت دی۔ اب اس صورتحال میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جس میں پہلا یہ کہ کیا حفیظ واقعی انجری کا شکار ہیں۔ ہم سب ہی یہ بات جانتے ہیں کہ حفیظ باؤلنگ ایکشن مشکوک قرار دیے جانے کے باعث آئی سی سی کی پابندی کا شکار ہیں اور چھ فروری کو اس سلسلے میں ان کا ٹیسٹ ہونا تھا تاکہ وہ کلیئر ہو سکیں۔ یہاں عین ممکن ہے کہ حفیظ بذات خود اپنے ایکشن سے مطمئن نہ ہوں اور اس ٹیسٹ سے بچنے کا واحد حل انہیں ’انجری‘ ہی محسوس ہوئی ہو اور ہو سکتا ہے کہ ورلڈ کپ سے باہر ہونا ان کا اپنا فیصلہ ہو۔ بیرون ملک دوروں پر قومی ٹیم میں تناؤ اور اختلافات کوئی نئی بات نہیں، تاحال تو ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی لیکن کیا حفیظ کو ان کی مرضی کے مطابق واپس پاکستان بھیجا گیا۔ حقیقت کیا ہے اس کا ابھی تک تو علم نہیں لیکن ورلڈ کپ کے بعد عین ممکن ہے کہ بہت سے رازوں سے پردہ اٹھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…