اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پار لیمانی کمیٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو سڑکوں پر بھی آنے میں کوئی حر ج نہیں ہوگا‘ قمر الزمان کائرہ

datetime 30  مئی‬‮  2016 |

لاہور(آئی این پی) پیپلزپارٹی کے مر کزی سیکرٹری اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پار لیمانی کمیٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو سڑکوں پر بھی آنے میں کوئی حر ج نہیں ہوگا‘ اپوزیشن جماعتوں میں مکمل اتفاق اوراعتماد ہے ‘ملک میں احتساب نہ ہونے سے انارکی پیدا ہوگی ‘پیپلزپارٹی کسی صورت پانامہ لیکس کی تحقیقات سے پیچھے نہیں ہٹے گی ‘(ن) لیگ کو پانامہ لیکس کی تحقیقات کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر نا ہوگا ورنہ انکے پاس پچھتاوے کے سواکچھ نہیں ہوگا ۔ اتوار کے روز اپنے ایک انٹر ویو میں پیپلزپارٹی کے مر کزی سیکرٹری اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے پامہ لیکس کے حوالے سے جو موقف اختیار کیاآج بھی اس پر قائم ہے اور ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پانامہ لیکس کے معاملے کی شفاف تحقیقات نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ پار لیمانی کمیٹی میں ہی حل ہوجائے لیکن اگر پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹی او آرز کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں حل نہیں ہوگا تو سڑکوں پر آنا میں کوئی حرج نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…