اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

صوبائی وزیر کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کیلئے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا

datetime 21  مئی‬‮  2016 |

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے مقامی حکومتوں کے وزیر سردار مصطفی خان ترین کے بیٹے کو مسلح افراد نے ضلع پشین سے اغواء کرلیا۔پشین کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) حئی بلوچ نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے بلوچستان کے مقامی حکومتوں کے وزیر کے بیٹے کو پشین میں کیڈٹ کالج سے اغواء کیا ٗ اغواء کار نوجوان کی گاڑی کو کالج کے قریب ہی چھوڑگئے ٗواقعہ کے بعد صوبائی وزیر کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کیلئے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ٗپولیس اور لیویز فورسز نے مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران اغواء میں ملوث ہونے کے شبہ میں متعدد ملزمان کو گرفتار کرلیا تاہم ڈی پی او پشین نے گرفتار ملزمان کی تفصیلات میڈیا سے شیئر نہیں کیں۔دوسری جانب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے واقعے کا نوٹس لے کر بلوچستان کے پولیس چیف کو صوبائی وزیر کے بیٹے کی بازیابی کیلئے کوششیں تیز کرنے کی ہدایات کردیں۔واضح رہے کہ سردار مصطفی خان ترین عام انتخابات 2013 کے دوران پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر پشین سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…