اسلام آباد (آن لائن)وزارت خزانہ نے ایوان بالا کو 1990سے 2000تک 50ملین روپے سے زائد قرض معاف کروانے والوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرد یا۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دہشتگردی کے باعث ملکی معیشت کو5ہزار 193ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران پورٹ قاسم یہ درآمد شدہ سامان کے کنٹینرز کی غیر قانونی کلیئرنس میں ملوث9افراد ففسے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ وزیر صنعت و پیداوار نے یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن میں گزشتہ 3سالوں کے دوران اربوں روپے کی کرپشن میں120افراد کی لسٹ پیش کر دی ۔ ان افراد کے کیسز ایف ائی اے اور نیب کو بھجوا دیئے ہیں۔ جمعہ کو ایوان بالا اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف زاہد حامد نے بتایا کہ 1990سے 2000تک50ملین روپے سے زائد قرض معاف کروانے والوں کی تفصیلات اسٹیٹ بینک و دیگر اداروں سے مانگی ہیں ۔ اس سوال کے جواب کے لئے مزید وقت دیا جائے۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان کے سوال کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دہشتگردوں کی کارروائیوں سے ملکی معیشت کو 5ہزار 193ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کے مد میں 2001سے جنوری 2016تک 3.7ارب ڈالر وصول ہوئے ہیں اس پر پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ملکی معیشت کو5ہزار 193ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ کولیشن سپورٹ فنڈ سے13ارب 70کروڑ ڈالر ہیں اگر اتنا نقصان کروانے کے باوجود رقم ملے تو اس مد میں رقم نہیں دینی چاہیے۔ سینیٹر ملک محمود کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں کے دوران اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث 120افراد کے کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوا دیئے ۔ وزارت کے پاس ریکوری کا کوئی میکانزم نہیں ہے۔ ان افراد سے وصولی نیب اور ایف آئی اے کرے گا۔ سینیٹر عبدالقیوم نے استفسار کیا کہ یو ایس سی میں کرپشن کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس پر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار نے کہا کہ یو ایس سی کے سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں ۔ تمام اشیاء کا ڈیٹا اب ریکارڈ کیا جائے گا جس سے کرپشن کی حوصلہ شکنی ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوارد میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کا قیام منصوبہ بندی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ گواردر میں حکومت بلوچستان کی جانب سے 1ہزار ایکڑ اراضی حاصل کر لی گئی ہے۔ سینیٹر طلحہٰ محمود کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ یو ایس سی نے 2013سے 2015تک چینی پر 17ارب 84کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔ یہ ای سی سی کے حکم پر دی گئی تھی جبکہ 2013میں یوٹیلٹی سٹور نے رمضان ریلیف پیکج کے تحت 1795ملین روپے 2014میں11316ملین روپے اور 2015میں 1134لین روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
فورنگ میں ایک رات
-
تیل کی قیمتیں مزیدکم ہوں گی،وزیر مملکت نے خوشخبری سنادی
-
فیول سبسڈی ختم، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
مڈل کلاس طبقے کے لیے اب امپورٹڈ گاڑی خریدنا آسان؟ بڑی خوشخبری آگئی
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
وزیراعظم نے سرکاری تعطیلات کی منظوری دیدی
-
3 روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی
-
شہباز شریف نےصدر زرداری کو چھتری دینے سے انکار کر دیا، نور خان ائیر بیس پر دلچسپ صورتحال
-
سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی



















































