اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

افغان تنازعہ ،لیفٹیننٹ جنرل(ر)ناصر جنجوعہ ایکشن میں ،حقیقت سے پردہ اُٹھادیا

datetime 17  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)افغان تنازعہ ،لیفٹیننٹ جنرل(ر)ناصر جنجوعہ ایکشن میں ،حقیقت سے پردہ اُٹھادیا،وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ ہم امن پسند قوم ہیں ٗافغانستان میں امن کی خواہش رکھتے ہیں ٗ ہمیں 30 لاکھ مہاجرین کے بدلے کچھ نہیں ملا ٗ سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو موثر بنانا ضرروی ہے ٗ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کچھ اختلافات موجود ہیں ٗباہمی مفادات کے حصول کیلئے مل کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ منگل کو یہاں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ڈبل گیم کھیل رہے ہیں جوغلط ہے، ہم امن پسند قوم ہیں اور افغانستان میں امن کی خواہش رکھتے ہیں ٗہمارے دل افغانستان کے لیے دھڑکتے ہیں،ہم نے افغانیوں کے ساتھ اپنے گھر اور دسترخوان بانٹے ہیں،عالمی برادری تین ڈالر سالانہ فی مہاجر دے کر سمجھتی ہے کہ اس نے اپنا کام کر دیا، ہمیں افغان بھائیوں سے ہمدردی ہے لیکن ہمیں 30 لاکھ مہاجرین کے بدلے کچھ نہیں ملا، افغان مہاجرین کیبوجھ کے باعث ملکی معیشت کو100ارب کاخسارہ برداشت کرناپڑا۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ طالبان نے افغان مہاجرین کو استعمال کیا، افغان مہاجرین کی شکل میں طالبان کو پناہ گاہیں مل جاتی ہیں، یہ لوگ خالی ہاتھ سرحد پار کرتے ہیں اور دوسری جانب جا کر لڑتے ہیں،واپسی پر وہ پھر شریف آدمی دکھائی دیتے ہیں، اس کے علاوہ مہاجرین منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی میں استعمال ہوتے ہیں، اس کے لئے سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو موثر بنانا ضرروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کچھ اختلافات موجود ہیں، باہمی مفادات کے حصول کیلئے مل کر آگے بڑھا جاسکتا ہے، خطے میں استحکام کیلئے عالمی برادری پاکستان اورافغانستان کی مدد کرے ۔انہوں نے کہاکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ڈبل گیم کھیل رہے ہیں جوغلط ہے ہمارے دل افغانستان کے لیے دھڑکتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…