ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

بھارت کا نیا منصوبہ، ماہرین میں تشویش کی لہر، مخالفت کر دی

datetime 17  مئی‬‮  2016 |

نئی دہلی (آن لائن) بھا رتنےملک میں شدیدخشک سالی سے نمٹنے کے لیے دریاو¿ں کے رخ تبدیل کرنے کا منصو بہ بنا لیا ۔ محکمہ آ بپا شی کی وزیر ا±وما بھارتی نے بر طا نو ی نشریا تی ادارے کو انٹر ویو دیتے ہو ئے کہاکہ بھرم پترا اور گنگیز سمیت بڑے دریاو¿ں سے پانی کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی طرف موڑا جائے گا۔ یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انڈیا میں موسمی حدت میں اضافہ خشک سالی کا سبب بن رہا ہیں جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔دریاو¿ں کے پانی کے منتقل کیے جانے کے لیے 30 مقامات پر رابطوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے 14 شمالی میں ہمالیہ کے برفانی تودوں سے آنے والے پانیوں پر ہیں جبکہ 16 دیگر علاقوں سے ہیں۔ماحولیات کے ماہرین نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ایک دوسری ماحولیاتی آفت جنم لےگی لیکن ملک کی سپریم کورٹ نے اس پر عمل در آمد کا حکم دے دیا ہے۔ تا ہم اوما بھارتی کا کہنا تھا ’دریاو¿ں کو آپس میں جوڑنے کا یہ منصوبے ہمارا اولین ایجنڈا ہے اور ہمیں اس کے لیے لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور ہم اسے جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پانچ مقامات پر کام جاری ہے اور اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں دریاو¿ں کا پہلا رابطہ جلد کھول دیا جائے گا،اوما بھارتی کے مطابق 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد سے ملک میں دریاو¿ں کے رابطے کا یہ پہلا منصوبہ ہے۔ان کے مطابق آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے بھی آئندہ برسوں میں منصوبے بنائے جائیں گے اور یہ منصوبہ طویل المدتی ہے۔گذشتہ دو برس سے برے مون سون کے باعث انڈیا کو خشک سالی کا سامنا ہے۔اس کی 29 ریاستوں میں سے نصف کو خشک موسم اور پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ دہلی کی حکومت پانی کی ٹرینیں متاثرہ علاقوں میں بھیج رہی ہے۔پانی نے محکمے کی وزیر ا±وما بھارتی کا کہنا ہے کہ ’ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کا بحران آئندہ بھی رہے گا لیکن اس منصوبہ کے تحت کم لوگوں کی مدد کرنے کے قابل ہوں گے۔‘ان کے بقول ’لوگوں نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اور وہ خوشی خوشی نقل مکانی کو تیار ہیں۔‘ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے نہ معاشی نہ معاشرتی طور پر ممکن ہے۔ حکومت پر بھی بغیر کسی کاغذی جانچ پڑتال کے اس کے لیے ماحولیاتی نقطہ نظر سے منظوری دینے کا الزام ہے۔جنوبی ایشیا میں ڈیمز، دریاو¿ں اور لوگوں کے لیے جام کرنے والے ادارے کے اہلکار ہیمانشو ٹھکر کا کہنا ہے ’یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں تو ناممکن ہے کیونکہ دریاو¿ں کے بہاو¿ کا کیا ہوگا۔‘ان کا مزید کہنا تھا’یہ منصوبہ اس سوچ پر بنایا گیا ہےکہ خشک علاقوں میں پانی پہنچایا جائے لیکن اس بارے میں کوئی قابلِ ذکر تحقیق نہیں ہے کہ کن علاقوں میں پانی زیادہ ہے اور کن میں کم ہے۔‘حکومت کے مطابق اس منصوبے سے 35000 ہیکٹر رقبے کو آبیاری ملے گی جبکہ 34000 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…