اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دو خواتین کو سرعام زبردستی اُٹھانے کی کوشش،حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی لڑ پڑے،بڑے اقدام کا اعلان

datetime 15  مئی‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)دو خواتین کو زبردست اُٹھانے کا تنازعہ،حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی لڑ پڑے،بڑے اقدام کا اعلان
حکمران جماعت کے رکن اسمبلی ملک ذوالقرنین ڈوگر نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق کے الزام کو رد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ننکانہ صاحب میں پیش آنے والے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ۔ ’’ این این آئی ‘‘ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ملک ذوالقرنین ڈوگر نے کہا کہ صدیق الفاروق کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ۔آپریشن کے دوران صدیق الفاروق کے پرائیویٹ گن مینوں نے ایک گھر میں داخل ہو کر دو خواتین کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر تھانے لیکر جانے کی کوشش کی جس کے بعد لوگ مشتعل ہوئے اور اس میں حکومت مخالف لوگوں نے بھی اپنا کام دکھایا ۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں 30دیہات اور شہر ٹرسٹ کی زمین پر آباد ہیں۔ صدیق الفاروق کی طرف سے نوٹسز بھجوائے جانے پر ہم نے انہیں درخواست کی کہ یہ لوگ صدیوں سے آباد ہیں اس لئے ان سے مناسب کرایہ کی وصولی یا انہیں لیز پر دیدیں ۔ اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شذرامنصب کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنائی کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے لیکن صدیق الفاروق نے اس کمیٹی کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کے اجلاس میں ہی بیٹھنے سے انکار کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی صدیق الفاروق ضلعی انتظامیہ کو پیشگی آگاہ کئے بغیر آپریشن کرنے پہنچ گئے اور جب ان کے پرائیویٹ گن مینوں نے ایک گھر میں داخل ہو کر دو خواتین کو گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے جانے کی کوشش کی تو مقامی لوگ مشتعل ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کے لئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو سکے ۔ انہوں نے صدیق الفاروق کی طرف سے قتل کرنے کی منصوبہ بندی اور قبضہ گروپ کی سرپرستی کے الزامات کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس پر انکے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…