ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

پاکستانی نصاب میں بنگلہ دیش کی حمایت، ملک کی اہم شخصیت نے آواز اٹھا دی

datetime 15  مئی‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے انٹر کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں 1971ءمیں سانحہ مشرقی پاکستان اور پاک بھارت جنگ کے حوالے سے شیخ حسینہ واجد حکومت کے مو¿قف کی ترجمانی اور بھارت کی مدد سے قائم تنظیم مکتی باہنی کے لیے نرم گو شے کا اظہار انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ فوری طور پر اس کا نوٹس لیں اور اس مضمون کو کتاب سے حذف کر کے نئی کتاب شائع کرانے کا حکم دیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے وزیر اعلیٰ سندھ کے نام ایک خط تحریر کیا ہے اور اس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کتاب میں سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر مشرقی پاکستان میں پاکستان کی سالمیت اور متحدہ پاکستان کے حق میں جدو جہد کر نے اور قر بانیاں دینے والوں کے کردار کو بھی اُجاگر کیا جائے اور شیخ حسینہ واجد حکومت کی طرف سے آج اسلام اور پاکستان سے محبت کر نے والوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں اور پھانسیوں کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی بھی مذمت کی جائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ اس امر کی بھی تحقیقات کرائی جائے کہ یہ مضمون جو کتاب کے صفحہ نمبر 59پر موجود ہے کس کی مرضی اور منظوری سے نصاب میں شامل کیا گیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہستم ظریفی یہ ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے انٹر کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ”1971ءکی پاک بھارت جنگ“ کے حوالے سے جو مضمون شائع کیا گیا ہے اس میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت اور بھارت کی مدد پر قائم کی گئی تنظیم مکتی باہنی کے لیے نرم گوشہ اختیار کیا گیا ہے اور ان کے مو¿قف کو پیش کیا گیا ہے ۔اس مضمون میں حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے کردار کو بھی منفی انداز میں بیان کیا گیا ہے اور یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا ۔اسی صورتحال کے باعث وہاں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے تعلیمی نصاب کے اندر اس طرح کے مضمون کی اشاعت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے ۔جو پاکستان کے قومی مو¿قف کے بھی خلاف ہے ۔سندھ حکومت کی نگرانی اور سرپرستی میں نصاب کی کتاب میں متحدہ پاکستان کے تحفظ اور سالمیت کی خاطر جدو جہد کر نے والوں کے حوالے سے مذکورہ مندرجات کی اشاعت سے ملک بھر کے عوام کے احساسات و جذبات مجروح ہو ئے ہیںاور بالخصوص موجودہ صورتحال میں عوام کے اندر شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ صورتحال کو خراب ہونے سے پہلے ہی ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…