لاہور ( این این آئی) پاکستان جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدر و سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت نواز شریف کا نام نہیں ، وہ نہ بھی ہوں تو نظام چلتا رہے گا ،حکومت اقتدار کو طول دینے کیلئے معاملہ لٹکا رہی ہے،نواز شریف استعفیٰ دے کر کسی اور کو نامزد کر دیں ، مستعفی نہ ہوئے تو حالات مزید خراب اور بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی ، سب جماعتوں میں قبضہ مافیا ، ٹیکس چور اور کرپشن کرنے والے بیٹھے ہیں اس لئے کوئی بھی بے رحمانہ احتساب نہیں چاہتا ،چیف جسٹس آف پاکستان مصلحت سے کام نہیں لے رہے بلکہ انہوں نے تشریح مانگی ہے ، اگر چیف جسٹس ہوتا تو وقت کی مناسبت اور ملک و قوم کے مفاد میں بڑے سے بڑا فیصلہ کرنے سے بھی گریز نہ کرتا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہو ٹل میں پارٹی کے اجلاس کے بعد پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ حکومت کو آئین کے مطابق مدت اپنی پوری کرنی چاہیے اور جمہوری نظام چلنا چاہیے لیکن جمہوریت نواز شریف کا نام نہیں ۔ان کے جانے کے بعد بھی جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ، وہ چلے جائیں گے تو یہ نظا م ختم نہیں ہو جائے گا،کیونکہ اس ملک میں جمہوری نظام کے علاوہ او رکوئی شب خون مارنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا، نو از شریف کوچاہیے کہ عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ پارٹی کسی کی جاگیر نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی پارٹی میں جاگیر دارانہ نظام ہوناچاہیے ، نو از شریف اسمبلی میں جانے سے اس لیے ڈرتے ہیں کیونکہ ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں ،لیکن اِس وقت اسمبلی نہیں بلکہ سینٹ زیادہ مو زوں فورم ہے کیونکہ اسمبلی میں 70اجنبی لو گ بیٹھے ہیں جنہوں نے اپنے عہدوں سے استعفے دے رکھے ہیں ، اس لیے وزیر اعظم اسمبلی کی بجائے سینٹ میں جو اب دیں ، اپنے تمام کھاتے سینٹ میں لے جائیں اور او رپو را حساب کتا ب دیں کہ اتنا پیسہ کیسے بنایا اور باہر کیسے بھیجا ، اگر ان کا دامن صاف ہے تو اسمبلی میں جاکر لو گوں کاسامنا کرنے سے گھبراتے کیوں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بلٹ پرو ف گاڑی کے لئے کوئی کیس دائر نہیں کیا ۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے اس پر بات نہیں کرنا چاہتا ۔میں اپنے تمام عملے کو سہولیات اور مراعات اپنی جیب سے اداکر تا ہو ں ، گاڑی میرے عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا ء پر میرے پا س ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر میں آج چیف جسٹس آف پاکستان ہوتا تو ملکی مفاد میں بڑے سے بڑا فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرتا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے معاملے کو طول دے رہی ہے ۔ ایک ملزم اپنے لیے 100فیصد انصاف پر مبنی ٹی اوآرز کیسے بنا سکتا ہے ، میں جتنی دیر بھی بطور چیف جسٹس اپنے عہدے پر رہا میں نے کبھی بھی مسلم لیگ (ن ) کے حق میں جانبدارانہ فیصلے نہیں دئیے بلکہ میں نے بہت سے فیصلے مسلم لیگ (ن )کے خلاف کیے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں بہت سے کمیشن بنے لیکن انکی تحقیقات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا ۔ میں نے اپنے دور میں جو کمیشن بنائے انکی رپورٹ پبلک کرنے کی ہدایات دیں اور انکے ذمہ داروں کے خلاف کیسز چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پا رٹی کے لوگ ہی پارٹی کیلئے چندہ جمع کر تے ہیں کیونکہ ہما ری پارٹی میں کوئی اے ٹی ایم مشین نہیں ۔
حالات خراب ،بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی،افتخارچوہدری کا انتباہ،نوازشریف سے بڑا مطالبہ کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
پنجاب، کے پی، بلوچستان، آزاد کشمیر، جی بی میں بارشوں اور سیلاب کا الرٹ
-
راولپنڈی،شادی کا جھانسہ دیکر بنکاک سے لائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی
-
بیٹے نے غیرت کے نام پر اپنی بوڑھی ماں اور 60 سالہ شخص کوہلاک کر دیا



















































