پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

عدالتوں میں جعلی مقدمہ بازی روکنے کیلئے بڑے اقدام کا فیصلہ،وزیراعظم نے حکم جاری کردیا

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) وفاقی حکومت نے ملک بھر کی عدالتوں میں جعلی مقدمہ بازی روکنے کے لئے ضابطہ دیوانی میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ، ترامیم کی منظوری کے بعد جعلی مقدمہ بازی کرنیوالے کو عدالتوں کی طرف سے بھاری جرمانے کرنے کا اختیار ہوگا۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرف سے وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے عدالتوں میں جعلی مقدمہ بازی روکنے کیلئے ضابط دیوانی میں ترامیم کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔خصوصی کمیٹی نے ابتدائی سفارشات تیار کر لیں ہیں جن کے مطابق ضابطہ دیوانی کی دفعہ پینتیس اور پینتیس اے کے ساتھ پینتس بی اور سی کا اضافہ کیا جائے گا، ضابطہ دیوانی کی موجودہ دفعہ پینتیس اور پینتیس کے مطابق جعلی مقدمہ بازی پر عدالت کو صرف پچیس ہزار روپے تک جرمانہ کرنے کا اختیار ہے۔ ذرائع کے مطابق خصوصی کمیٹی کی ابتدائی سفارشات کے مطابق پینتیس بی اور سی کو شامل کر کے جرمانہ کی شرح میں زیادہ اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ جعلی مقدمہ بازی کے رجحان کو روکا جا سکے، ترامیم کے بعد عدالتوں کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ اگر کسی ریکارڈ یا دوسرے ذرائع سے عدالت کو محسوس ہو کہ اس کے روبرو جعلی درخواست یا دعوی دائر کیا گیا ہے تو وہ جعلی مقدمہ بازی کرنے والے شہری کو بھاری جرمانہ عائد کر سکے، لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جعلی مقدمہ بازی کی وجہ سے عدالتوں پر خوفناک بوجھ بڑھ رہے، جعلی مقدمہ بازی کی وجہ سے عام شہریوں کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، وزارت قانون کی خصوصی کمیٹی نے ترامیم کو حتمی منظوری دینے سے قبل وکلاء تنظیموں سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز سے بھی تجاویز مانگی ہیں، ان تجاویز کی روشنی میں ترامیم کو حتمی شکل دیکر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…