جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ترک اراکینِ پارلیمنٹ کا استثنیٰ ختم کرنے کی قانون سازی

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

انقرہ (این این آئی)ترکی میں حکمران پارٹی کو امید ہے کہ ترک اراکینِ پارلیمان کو حاصل استثنیٰ کے خلاف قانون سازی کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا، اس کا بھی امکان ہے کہ اِس قانون سازی کو ترکی کی اعلیٰ دستوری عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک دستور میں ترمیم کا بنیادی مقصد کرد اراکینِ پارلیمنٹ کو پوری طرح کنٹرول کرنا خیال کیا جاتا ہے۔ ترک فوج کے جنوب مشرقی علاقے میں جاری آپریشن پر کرد نواز سیاسی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسی تناظر میں صدر رجب طیب ایردوآن کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ دیویلپمنٹ پارٹی ملکی دستور میں ترمیم کرنا چاہتی ہے تا کہ کردوں کے حامی اراکین پارلیمنٹ کو پولیس کارروائی کا سامنا ہو سکے۔ پارلمینٹ کی دستور میں ترمیم کرنے والی خصوصی کمیٹی نے دستور میں اراکینِ پارلیمنٹ کے استثنیٰ کو ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اِس کمیٹی کے اجلاس میں شریک کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تھا مگر حکمران پارٹی نے اپنی کارروائی مکمل کر کے دستوری ترمیم کے حق میں فیصلہ دیا۔ اِس ترامیمی قرارداد کی منظوری کے لیے رجب طیب ایردوآن کی سیاسی جماعت کو 367 ووٹ کی ضرورت ہے۔ حکمران پارٹی کی نشستوں کی تعداد 316 ہے اور امکاناً اْسے انتہائی دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔بعض ترک سیاسی حلقوں کے مطابق حکمران سیاسی پارٹی کو تمام حلقوں کی حمایت حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے اور اِس پارٹی کے بعض اراکین بھی اِس دستوری ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ترک صدر ایردوآن کی جانب سے وزیراعظم کے اختیار کم کر کے ملک میں حکومتی اختیارات صدر کو منتقل کرنے کی دستوری کوششوں کو سیاسی حلقے اْن کے آمرانہ رویے کا مظہر خیال کرتے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کے استثنیٰ کو ختم کرنے کا اشارہ بھی سب سے پہلے ایردون نے ہی دیا تھا۔جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اراکین کو بھی خطرہ ہے کہ اگر ترمیم ہو جاتی ہے تو وہ بھی پولیس کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی بعض حکومتی اقدامات کو گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ترکی کے تاریخی شہر استنبول کی سٹی یونیورسٹی کے دستوری قانون کے ماہر پروفیسر ایرگون اوزبْودْون کا کہنا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ حکمران پارٹی کی متعارف کرائی گئی ترامیم دستور کے خلاف ہیں اور یہ مساوات کے بنیادی اصول کے بھی منافی ہیں۔ اوزبْودْون کے مطابق اضافی شقوں کی شمولیت سے دستور کی روح متاثر ہوتی ہے اور اِس عمل سے ایک خاص طریقے سے دستور کو معطل کرنا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…