ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

ترک اراکینِ پارلیمنٹ کا استثنیٰ ختم کرنے کی قانون سازی

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

انقرہ (این این آئی)ترکی میں حکمران پارٹی کو امید ہے کہ ترک اراکینِ پارلیمان کو حاصل استثنیٰ کے خلاف قانون سازی کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا، اس کا بھی امکان ہے کہ اِس قانون سازی کو ترکی کی اعلیٰ دستوری عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک دستور میں ترمیم کا بنیادی مقصد کرد اراکینِ پارلیمنٹ کو پوری طرح کنٹرول کرنا خیال کیا جاتا ہے۔ ترک فوج کے جنوب مشرقی علاقے میں جاری آپریشن پر کرد نواز سیاسی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسی تناظر میں صدر رجب طیب ایردوآن کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ دیویلپمنٹ پارٹی ملکی دستور میں ترمیم کرنا چاہتی ہے تا کہ کردوں کے حامی اراکین پارلیمنٹ کو پولیس کارروائی کا سامنا ہو سکے۔ پارلمینٹ کی دستور میں ترمیم کرنے والی خصوصی کمیٹی نے دستور میں اراکینِ پارلیمنٹ کے استثنیٰ کو ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اِس کمیٹی کے اجلاس میں شریک کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تھا مگر حکمران پارٹی نے اپنی کارروائی مکمل کر کے دستوری ترمیم کے حق میں فیصلہ دیا۔ اِس ترامیمی قرارداد کی منظوری کے لیے رجب طیب ایردوآن کی سیاسی جماعت کو 367 ووٹ کی ضرورت ہے۔ حکمران پارٹی کی نشستوں کی تعداد 316 ہے اور امکاناً اْسے انتہائی دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔بعض ترک سیاسی حلقوں کے مطابق حکمران سیاسی پارٹی کو تمام حلقوں کی حمایت حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے اور اِس پارٹی کے بعض اراکین بھی اِس دستوری ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ترک صدر ایردوآن کی جانب سے وزیراعظم کے اختیار کم کر کے ملک میں حکومتی اختیارات صدر کو منتقل کرنے کی دستوری کوششوں کو سیاسی حلقے اْن کے آمرانہ رویے کا مظہر خیال کرتے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کے استثنیٰ کو ختم کرنے کا اشارہ بھی سب سے پہلے ایردون نے ہی دیا تھا۔جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اراکین کو بھی خطرہ ہے کہ اگر ترمیم ہو جاتی ہے تو وہ بھی پولیس کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی بعض حکومتی اقدامات کو گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ترکی کے تاریخی شہر استنبول کی سٹی یونیورسٹی کے دستوری قانون کے ماہر پروفیسر ایرگون اوزبْودْون کا کہنا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ حکمران پارٹی کی متعارف کرائی گئی ترامیم دستور کے خلاف ہیں اور یہ مساوات کے بنیادی اصول کے بھی منافی ہیں۔ اوزبْودْون کے مطابق اضافی شقوں کی شمولیت سے دستور کی روح متاثر ہوتی ہے اور اِس عمل سے ایک خاص طریقے سے دستور کو معطل کرنا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…