جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

’ہیلز نہیں پہن سکتیں تو نوکری چھوڑ دو‘

datetime 12  مئی‬‮  2016 |

لندن (نیوز ڈیسک) لندن میں ایک خاتون ملازمہ کو ہائی ہیلز والے جوتے پہن کر کام کرنے سے انکار کرنے پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ہیکنی سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ عارضی کارکن نیکولا تھورپ جب فنانس کمپنی پی ڈبلیو سی آئیں تو ان سے کہا گیا کہ انھیں ’دو سے چار انچ اونچی ایڑی والے جوتے‘ پہننا ہوں گے۔جب انھوں نے اس سے انکار کیا اور سوال کیا کہ مرد رفقائے کار سے بھی ایسا ہی کرنے کو کیوں نہیں کہا جاتا، تو انھیں بغیر تنخواہ دیے گھر بھیج دیا گیا۔آؤٹ سورسنگ فرم پورٹیکو کا کہنا ہے کہ ’مس تھورپ نے لباس کے بارے میں ضابطہ کار پر دستخط کیے ہوں گے لیکن اب اس کا جائزہ لینا ہو گا۔‘نیکولا تھورپ کا کہنا ہے کہ انھیں ہائی ہیلز پہن کر پورا دن کام کرنے میں مشکلات ہوسکتی تھی اس لیے انھوں نے چپٹے جوتے پہننے کا پوچھا تھا جو وہ ایک دفتر میں پہن کر جاتی تھیں۔لیکن اس کے باوجود ان سے گذشتہ دسمبر میں ان کے پہلے ہی دن اونچی ایڑی والے جوتے خریدنے کو کہا گیا۔نیکولا تھورپ نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کہا کہ اگر آپ مجھے کوئی ایک وجہ بتا دیں کہ آج فلیٹ جوتے پہننے کی وجہ سے میرے کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی تو ٹھیک ہے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔‘’مجھ سے توقع کی جا رہی تھی کہ میں نو گھنٹوں کی شفٹ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر کروں، کلائنٹس کو میٹنگ روم تک لے کر جاؤں۔ میں نے کہا کہ میں ہیلز کے ساتھ یہ سب نہیں کر پاؤں گی۔‘انھوں نے اپنے دوستوں سے یہ سب بیان کیا اور جب انھوں نے فیس بک پر یہ سب لکھا تو انھیں معلوم ہوا کہ دیگر خواتین کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔’میں خوف زدہ تھی کہ اس بارے میں بولنے کا منفی اثر بھی ہو سکتا ہے، لیکن میں نے سوچا کہ مجھے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بڑا مسئلہ ہے۔‘اس کے بعد انھوں نے ایک پٹیشن تیار کی جس میں انھوں نے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تاکہ خواتین کو ہائی ہیلز پہن کر کام کرنے پر مجبور نہ کیا جا سکے۔ اس پٹیشن پر دس ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں جس کے بعد اب حکومت کو اس پر ردعمل ظاہر کرنا ہو گا۔قانون کے مطابق کمپنی مالکان ’مناسب‘ مطلوبہ ڈریس کوڈ پر پورا نہ اترنے والے عملے کو صحیح کپڑے اور جوتے خریدنے کا وقت دینے کے بعد ملازمت سے نکال سکتے ہیں۔’وہ مرد اور خواتین کے لیے مختلف ڈریس کوڈ رکھ سکتے ہیں۔‘ دوسری جانب پی ڈبلیو سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی پالیسی کے حوالے سے پورٹیکو کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…