پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

’ہیلز نہیں پہن سکتیں تو نوکری چھوڑ دو‘

datetime 12  مئی‬‮  2016 |

لندن (نیوز ڈیسک) لندن میں ایک خاتون ملازمہ کو ہائی ہیلز والے جوتے پہن کر کام کرنے سے انکار کرنے پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ہیکنی سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ عارضی کارکن نیکولا تھورپ جب فنانس کمپنی پی ڈبلیو سی آئیں تو ان سے کہا گیا کہ انھیں ’دو سے چار انچ اونچی ایڑی والے جوتے‘ پہننا ہوں گے۔جب انھوں نے اس سے انکار کیا اور سوال کیا کہ مرد رفقائے کار سے بھی ایسا ہی کرنے کو کیوں نہیں کہا جاتا، تو انھیں بغیر تنخواہ دیے گھر بھیج دیا گیا۔آؤٹ سورسنگ فرم پورٹیکو کا کہنا ہے کہ ’مس تھورپ نے لباس کے بارے میں ضابطہ کار پر دستخط کیے ہوں گے لیکن اب اس کا جائزہ لینا ہو گا۔‘نیکولا تھورپ کا کہنا ہے کہ انھیں ہائی ہیلز پہن کر پورا دن کام کرنے میں مشکلات ہوسکتی تھی اس لیے انھوں نے چپٹے جوتے پہننے کا پوچھا تھا جو وہ ایک دفتر میں پہن کر جاتی تھیں۔لیکن اس کے باوجود ان سے گذشتہ دسمبر میں ان کے پہلے ہی دن اونچی ایڑی والے جوتے خریدنے کو کہا گیا۔نیکولا تھورپ نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کہا کہ اگر آپ مجھے کوئی ایک وجہ بتا دیں کہ آج فلیٹ جوتے پہننے کی وجہ سے میرے کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی تو ٹھیک ہے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔‘’مجھ سے توقع کی جا رہی تھی کہ میں نو گھنٹوں کی شفٹ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر کروں، کلائنٹس کو میٹنگ روم تک لے کر جاؤں۔ میں نے کہا کہ میں ہیلز کے ساتھ یہ سب نہیں کر پاؤں گی۔‘انھوں نے اپنے دوستوں سے یہ سب بیان کیا اور جب انھوں نے فیس بک پر یہ سب لکھا تو انھیں معلوم ہوا کہ دیگر خواتین کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔’میں خوف زدہ تھی کہ اس بارے میں بولنے کا منفی اثر بھی ہو سکتا ہے، لیکن میں نے سوچا کہ مجھے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بڑا مسئلہ ہے۔‘اس کے بعد انھوں نے ایک پٹیشن تیار کی جس میں انھوں نے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تاکہ خواتین کو ہائی ہیلز پہن کر کام کرنے پر مجبور نہ کیا جا سکے۔ اس پٹیشن پر دس ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں جس کے بعد اب حکومت کو اس پر ردعمل ظاہر کرنا ہو گا۔قانون کے مطابق کمپنی مالکان ’مناسب‘ مطلوبہ ڈریس کوڈ پر پورا نہ اترنے والے عملے کو صحیح کپڑے اور جوتے خریدنے کا وقت دینے کے بعد ملازمت سے نکال سکتے ہیں۔’وہ مرد اور خواتین کے لیے مختلف ڈریس کوڈ رکھ سکتے ہیں۔‘ دوسری جانب پی ڈبلیو سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی پالیسی کے حوالے سے پورٹیکو کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…