لاہور( این این آئی) صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے ہاتھ سے وہ لکیر مٹ چکی ہے جس سے وہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں،اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ پانامہ لیکس کے سوا تمام مسائل حل ہو چکے ہیں تو ضرور احتجاج کرے ،نواز شریف کا جرم یہ ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اورملک میں سیاسی و معاشی استحکام چاہتے ہیں ،اپوزیشن قومی اور مقبول لیڈر نوازشریف کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن پانامہ لیکس پر سیاست کر رہی ہے ۔جو سات سوالات کئے گئے ہیں اس پر پارلیمنٹ میں بیٹھاہر شخص جوابدہ ہے اوریہ سوالات پارلیمنٹ میں بیٹھے ہر شخص پر نافذ ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس میں جو احتجاج کر رہے ہیں ان کی بعض کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں،انکو اپنے گریبان میں جھانکنا پڑ جائے تو شرمندگی ہوگی۔نواز شریف تو بڑے صنعتی گروپ کے سربراہ تھے او ران کا خاندان تقسیم سے پہلے کا کاروبار کر رہا ہے ۔ یہاں تو بعض میٹر ریڈر تھے ،بتانا پڑ جائے کہ ان کے پاس اربوں کے اثاثے کہاں سے آگئے ۔انہوں نے کہا کہ ،بد قسمتی سے قانون کی حکمران ، جمہوریت کی مضبوطی کے لئے اتفاق رائے نہیں ۔ چند عناصر ملک میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا نہیںدیکھنا چاہتے۔ نواز شریف کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ سیاسی و معاشی استحکام پیداکرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نواز شریف کے بچپن سے لے کر اب تک حساب مانگ رہے ہیں ۔ یہ لوگ صر ف چاہتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی بات سامنے آ سکے۔ کیا کسی میں جرات ہے کہ 12مئی کے ذمہ دار جنرل مشرف کے خلاف بات کر سکے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج اپوزیشن سمیت ہر کسی کا حق ہے لیکن اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ پانامہ لیکس کے سوا تمام مسائل حل ہو چکے تو ضرور احتجاج کرے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن ملک سے مخلص ہوتے تو کرپشن کے خاتمے ،بیرون ملک سرمایہ کاری پر پابندی کے لئے قانون سازی کا متفقہ مطالبہ کرتے ۔اپوزیشن صرف سیاست کرنا چاہتی ہے اور یہ صرف اپنی ذات سے مخلص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پہلے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا پھر چیف جسٹس کو خط لکھنے کا کہا۔پہلے وہ نیب کے چیئرمین کو للکارتے رہے اب ان کو انکوائری کا کہہ رہے ہیں،عمران خان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے،عمران خان کے ہاتھ سے وہ لکیر مٹ چکی ہے جس سے وہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے ٹرائل کرنا ہے تو پھر جواب وہاں ہونا چاہیے۔ جو تین سوال کئے گئے ہیں وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچنے کے مترادف ہیںکیونکہ اپوزیشن کا ایجنڈہ ذاتی اقتدار اور پوائنٹ اسکورنگ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہے تین ہفتوں میں تمام مرحلہ مکمل کرلیا جائے گا۔بلدیاتی اداروں کو مکمل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی لعت و لعل نہیں ہے۔ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کی طرف سے جنوبی پنجاب میں طالبان کے ہونے کا تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا یہ مناسب بات نہیں ہے ۔
عمرام خان کے ہاتھ سے یہ لکیر مٹ چکی ہے، اہم وزیر نے بڑا دعویٰ کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
تمام تعلیمی ادارے 24 اگست تک بند رہیں گے! اعلان ہوگیا
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
لاہور میٹرو بس سروس 11 اگست سے بند کرنے کا اعلان
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟
-
پنجاب، کے پی، بلوچستان، آزاد کشمیر، جی بی میں بارشوں اور سیلاب کا الرٹ
-
سوشل میڈیا صارفین کیلئے نادرا کی سخت وارننگ
-
سمندری طوفان ڈولفن نے جاپان اور چین میں تباہی مچادی
-
بیٹے نے غیرت کے نام پر اپنی بوڑھی ماں اور 60 سالہ شخص کوہلاک کر دیا



















































