جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

بھارت اور نیپال میں کشیدگی، تیسرے ملک نے بھی اپنا سفیر واپس بلالیا

datetime 8  مئی‬‮  2016 |

کٹھمنڈو(نیوزڈیسک)نیپالی حکومت نے بھارت میں تعینات اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے جبکہ ملکی معاملات میں ہمسایہ ملک بھارت کی ’دخل اندازی‘ کی وجہ سے نیپالی صدر نے اپنا نئی دہلی کا دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کے بعد دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں تعینات نیپالی سفیر دیپ کمار اپادھیائے کو جمعے کے رات واپس ملک بلا لیا گیا تھا اور اس کی وجہ مبینہ طور ان کی طرف سے نیپالی اپوزیشن کا ساتھ دینا ہے، جسے بھارت حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ فرانسیسی خبرایجنسی نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دیپ کمار نیپالی کی ماو¿ نواز اپوزیشن جماعت کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ پارٹی وزیراعظم کے پی شرما اولی کی حکومت گرانا چاہتی ہے۔گزشتہ ہفتے نیپالی پارلیمان میں اس وقت افراتفری پھیل گئی تھی، جب حکومتی اتحاد میں شامل ماو¿ نواز گروپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ اتحاد سے الگ ہو جائیں گے تا کہ وزیراعظم کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے مبینہ طور پر بھارت کا ہاتھ تھا۔ تاہم اس اعلان کے بعد ماو¿ نواز اپوزیشن نے حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا تاکہ جمہوری نظام چلتا رہے۔ایک حکومتی عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ”دیپ کمار اپادھیائے کا نیپالی کانگریس میں کافی اثرورسوخ ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی تحریک میں ان کا اہم کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔“ اپادھیائے کو اپریل 2015ء میں کانگریس جماعت کی قیادت والی حکومت کی طرف سے بھارت میں سفیر مقرر کیا گیا تھا۔دوسری جانب نیپالی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور گوپال کھنال نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ بھارت میں تعینات سفیر کو کیوں واپس بلایا گیا ہے،بھارت اور نیپال کے تعلقات ایک طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ خاص طور سے ان پڑوسی ممالک کے مابین پانی کی تقسیم کا تنازعہ ہمیشہ سے عدم اعتماد اور دوستانہ ماحول کے فقدان کا سبب بنا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…